جرمنی: دودھ سستا، گوالے پریشان، حکومت متحرک | معاشرہ | DW | 30.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: دودھ سستا، گوالے پریشان، حکومت متحرک

ہر ہفتے ستّر گھنٹے کام، کوئی سالانہ چھٹی نہیں اور ماہانہ آمدنی بھی ملکی اوسط سے بہت کم۔ یہ حالات ہیں جرمنی میں گوالوں کے۔ جرمنی میں دودھ کی صنعت آج کل شدید مسائل کا شکار ہے۔

جرمنی کے گوالے دودھ کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی سے پیدا ہونے والی صورتحال میں حکومت کی جانب سے اربوں یورو کی اعانتیں ملنے کی توقع کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آج پیر تیس مئی کے روز برلن میں ایک ’مِلک سمٹ‘ ہو رہی ہے، جس میں جرمن وزیر زراعت کرسٹیان شمِٹ بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق امید ہے کہ جرمن وزیر مالی مشکلات کا شکار اس صنعت کو سہارا دینے کے لیے ضمانتوں اور قرضے دینے کے علاوہ ٹیکسوں میں چھوٹ کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس رقم کی مالیت کتنی ہو گی۔ اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں سو ملین یورو کی بات کی گئی تھی۔

Im Melkstand

بتایا گیا ہے کہ اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والی کمپنیاں ڈیری مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر تیار ہیں۔ آج ہونے والی ’مِلک سمٹ‘ میں کسانوں کی تنظیموں کے نمائندے، اس کاروبار سے منسلک ادارے اور ڈیری فارمرز کی تنظیموں کے عہدیدار بھی شرکت کر رہے ہیں۔ جرمنی میں گوالوں کو ڈیری فارمز کی جانب سے ایک لٹر دودھ کے عوض بیس سینٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کم قیمت کی وجہ سے گوالے اپنے اخراجات بھی پورے نہیں کر پا رہے۔ قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ پیداوار میں ہونے والا اضافہ بھی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ روس پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے جرمن ڈیری مصنوعات روس کو بہت کم برآمد کی جا رہی ہیں جبکہ چین میں بھی ان کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ستمبر 2015ء میں یورپی یونین نے زرعی شعبے کو ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کے لیے کسانوں کو پانچ سو ملین یورو کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ 2016ء میں ان میں سے ستّر ملین یورو جرمن گوالوں یا دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو دیے گئے۔ تاہم اب جرمنی میں ڈیری فارمرز کی مرکزی تنظیم حکومت سے مزید مالی اعانتوں اور رعایتوں کے مطالبے کر رہی ہے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ایک ڈیری فارم چلانے والے مشائیل گریشکا کہتے ہیں کہ ہالینڈ کی ایک کمپنی کے ساتھ ان کا معاہدہ ہے اور وہ ان سے تمام دودھ خرید لیتی ہے۔ تاہم پیداوار زیادہ ہونے کی صورت میں خطرات ڈیری فارمرز کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ دوسری جانب کسانوں کی تنظیم کے ترجمان بیرنہارڈ رؤب ان حالات کی ذمہ داری صرف بڑے بڑے کاروباری اداروں اور ڈیری فارمرز پر ہی عائد نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس سے پیداوار بھی بڑھے گی۔