جرمنی: درجنوں شہر مزید مہاجرین قبول کرنا چاہتے ہیں | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: درجنوں شہر مزید مہاجرین قبول کرنا چاہتے ہیں

یورپ بحیرہ روم میں مہاجرین کو بچانے کی کوششیں محدود کر چکا ہے جبکہ یونان اور اٹلی پہلے سے موجود مہاجرین سے نمٹنے کی کوششوں میں ہیں۔ اب درجنوں جرمن شہر مہاجرین کو خود اپنے ہاں لانے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

درجنوں جرمن شہروں کے ایک اتحادی گروپ نے پیر کے روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچائے گئے مہاجرین کو فوری طور پر اپنے ہاں آباد کرنے کی اجازت فراہم کی جائے۔

برلن، پوٹسڈام، ڈسلڈورف اور دیگر  شہروں کے نمائندوں کا ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ  مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی کے جمود کو توڑنا انسانیت دوستی کا تقاضہ ہے۔ مہاجرین کو بچانے اور انہیں یورپی یونین کے ممالک میں موثر طریقے سے تقسیم کرنے کی یورپی پالیسی اختلافات کی وجہ سے جمود کا شکار ہے اور ان نمائندگان کا اِشارہ اسی پالیسی کی طرف تھا۔

مختلف جرمن شہروں نے مل کر اس منصوبے کا نام 'محفوط بندرگاہوں والے شہر‘ رکھا ہے۔ پوٹسڈام کے میئر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ''اگر ہمیں اجازت دی گئی تو ہم مزید افراد کو پناہ دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، '' فی الحال ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی جاری  ہے اور یہ پالیسی کچھ نہ کرنے کے برابر ہے۔‘‘

یورپ جمود کا شکار

یورپ کے مختلف ممالک میں مہاجرین کو سیاسی پناہ فراہم کرنے سے متعلق قوانین عملی طور پر جمود کا شکار ہیں۔ یورپی یونین کے متعدد ممالک نام نہاد ڈبلن معاہدے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جس کے مطابق کسی بھی مہاجر کی سیاسی پناہ سے متعلق وہی ملک فیصلہ کرے گا، جہاں وہ سب سے پہلے پہنچا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے یونان، اٹلی، اسپین اور مالٹا جیسے ممالک پر دباؤ بہت بڑھ چکا ہے کیوں کہ یہی ممالک بحیرہ روم کے بندرگاہی ممالک ہیں اور سب سے پہلے مہاجرین انہی ممالک کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں موجود مہاجرین کئی کئی برسوں سے اپنی درخواستوں کے حوالے سے کسی فیصلے کے انتظار میں ہیں۔

دوسری جانب یورپ کے زیادہ تر ممالک بحیرہ روم میں مہاجرین کو بچانے کی کوششیں ترک کر چکے ہیں اور اب یہ امدادی سرگرمیاں صرف چند ایک غیرسرکاری تنظیمیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں جرمنی، مالٹا، اٹلی اور فرانس نے محدود سطح پر بچائے جانے والے مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے اور تقسیم کے طریقہ کار پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جرمنی نے ایک تہائی مہاجرین کو اپنے ہاں لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب متعدد جرمن شہر اس حوالے سے خود عملی اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں۔

ان جرمن شہروں کو کہنا ہے کہ وہ بحیرہ روم سے بچائے گئے مہاجرین کو فوری طور پر پناہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ شہر ان مہاجرین کو بھی اپنے ہاں پناہ دینے کے لیے تیار ہیں، جو یونان، مالٹا یا پھر اٹلی میں ابھی تک اپنی درخواستیں دینے کے انتظار میں ہیں۔

ان شہروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین کے سیکشن 23  کے پیراگراف ایک کو نافذالعمل کرے، جس کے تحت قانونی رکاوٹوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مہاجرین کو رہائشی پرمٹ فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

ا ا / ع ا