جرمنی حزب اللہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں کرے گا، جرمن وزیر | حالات حاضرہ | DW | 09.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی حزب اللہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں کرے گا، جرمن وزیر

جرمنی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ برطانوی فیصلے کے برعکس جرمنی حزب اللہ کے سیاسی بازو پر پابندی عائد نہیں کرے گا۔ جرمنی پر امریکا کی جانب سے دباؤ ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

جرمن نائب وزیر خارجہ نیلز آنن نے جرمن نیوز میگزین ’ڈیر اشپیگل‘ کو بتایا کہ ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروپ حزب اللہ تحریک لبنانی معاشرے میں اہمیت رکھتا ہے اور ملک کے پیچیدہ سیاسی عمل کا ایک حصہ ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ نے گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سیاسی بازو پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم مشرق وُسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔

نیلز آنن کے مطابق، ’’برطانوی عمل ایک قومی فیصلہ ہے جس کا جرمن حکومت یا یورپی یونین کے نقطہ نظر پر براہ راست کوئی اثر نہیں ہے۔‘‘

قبل ازیں یورپی یونین حزب اللہ کے ملٹری ونگ کو 2103ء میں ہی کالعدم دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کر چکی ہے۔

حزب اللہ لبنانی پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے جبکہ مغربی ممالک کی حمایت یافتہ وزیر اعظم سعد الحریری کی حکومت میں کُل 30 میں سے تین وزارتیں بھی حزب اللہ کے پاس ہیں۔

Niels Annen SPD Bundestagsabgeordneter

جرمنی کے نائب وزیر خارجہ نیلز آنن نے امریکا کی اس تنقید کو مسترد کر دیا کہ جرمنی علاقے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔

حزب اللہ کا مسلح دھڑا حالیہ چند برسوں کے دوران لبنان اور شام میں اپنا اثر و رسوخ کافی بڑھا چکا ہے۔ شام میں یہ گروپ روس اور ایران کے حمایت یافتہ ملکی صدر بشارالاسد کا حامی ہے۔ لبنان میں تو حزب اللہ کے عسکری دھڑے کو ملکی فوج سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔

لبنان کے دورے سے واپس لوٹنے والے جرمنی کے نائب وزیر خارجہ نیلز آنن نے ’ڈیر اشپیگل‘ سے بات کرتے ہوئے امریکا کی اس تنقید کو مسترد کر دیا کہ جرمنی علاقے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ برلن کی خارجہ پالیسی اس پیچیدہ صورتحال کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے اور اسی  پالیسی کو مزید جاری رکھا جائے گا۔

واضح رہے جرمنی اور یورپی یونین ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔  انہوں نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارت کا عمل جاری رکھنے کے لیے ایک متبادل طریقہ کار مرتب کیا ہے تاکہ رقوم کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔

لبنان قریب ایک ملین شامی مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے اور شام میں ختم ہوتی جنگ کے تناظر میں بہت سے مہاجرین وطن واپس بھی گئے ہیں۔ جرمنی کے لیے شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی ایک اہم معاملہ ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع آ (چیز وِنٹر)

DW.COM