جرمنی، تارکین وطن کے گھروں پر حملوں میں اضافہ | مہاجرین کا بحران | DW | 06.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی، تارکین وطن کے گھروں پر حملوں میں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں قریب روزانہ ہی دائیں بازو کی سوچ کے حامل افراد کی جانب سے مہاجرین کے گھروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ سن 2015 میں آئے مہاجرین کے بحران سے پہلے کے مقابلے میں ان حملوں کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔

جرمن وفاقی ادارے ’کریمنل پولیس ایجنسی‘ یا ’بی کے اے‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمارکے مطابق جرمنی بھر میں اس سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہاجرین کے گھروں پر دو سو گیارہ حملے کیے گئے۔ علاوہ ازیں اکتوبر کی تیئس تاریخ تک پندرہ مزید ایسے واقعات بھی درج کیے گئے ہیں۔

' بی کے اے‘ کے یہ تازہ اعداد و شمار جرمن روزنامے ’نوئے اوسنا بروکر سائٹنگ‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔

اگرچہ سن 2016 کے پہلے نو ماہ میں ہوئے نو سو حملوں کے مقابلے میں رواں برس کے حملوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے باوجود یہ تعداد سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

 سن 2015 میں جرمنی نے یورپ بھر میں سب سے زیادہ، قریب ایک ملین مہاجرین کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا تھا۔ نوئے اوسنا بروکر سائٹنگ کے مطابق جرمن وفاقی ادارے ’بی کے اے‘ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین پر حملے مستقل ہو رہے ہیں اور ہر سہ ماہی میں قریب ستّر حملے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کی رُو سے زیادہ تر حملے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے مکانات پر کیے گئے، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث تھے، جب کہ ان جرائم میں دھمکیوں اور سخت جملوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ نوعیت کے جرائم بہ شمول تشدد اور زخمی کر دینے جیسے واقعات بھی شامل تھے۔

سن 2015ء میں جرمنی میں سیاسی پناہ کے قریب نو لاکھ افراد داخل ہوئے تھے۔ اس کے ردعمل میں جرمنی میں مہاجرین اور مسلم مخالف جذبات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ ایسے واقعات میں جرمنی کے مشرقی حصے آگے دکھائی دیتے ہیں۔

DW.COM

اشتہار