جرمنی: تارکین وطن کے سماجی انضمام پر سالانہ لاگت ڈھائی ارب یورو | معاشرہ | DW | 18.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: تارکین وطن کے سماجی انضمام پر سالانہ لاگت ڈھائی ارب یورو

جرمنی میں مہاجرین کے لیے اہتمام کردہ سماجی انضمام کے کورسز سے ان تارکین وطن کی تقریباﹰ دو تہائی اکثریت قطعی مطمئن ہے۔ ان کورسز کے ساٹھ فیصد سے زائد شرکاء نے اپنی جرمن زبان بولنے کی اہلیت سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا۔

تاہم انہی تربیتی کورسز کے بارے میں ماہرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ انہیں ہر مہاجر اور تارک وطن کے لیے سود مند بنانے کی خاطر مزید بہتری کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایسے تربیتی پروگراموں میں خواتین تارکین وطن اکثر پیچھے رہ جاتی ہیں، جس کی اپنی وجوہات ہیں۔

جرمنی میں مہاجرت اور تارکین وطن سے متعلقہ امور کے وفاقی دفتر (BAMF) کے ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے مطابق ملک میں لاکھوں تارکین وطن کے لیے سماجی انضمام کے تربیتی پروگرام مجموعی طور پر بہت کامیاب اور سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔

ایسے ٹریننگ کورسز کے 61 فیصد شرکاء نے تصدیق کی کہ یوں ان کی جرمن زبان بولنے کی اہلیت بہت بہتر ہو گئی۔

اس کے برعکس وہ تارکین وطن جنہوں نے ایسے سماجی تربیتی کورسز میں حصہ نہیں لیا تھا، ان میں سے صرف 17 فیصد ایسے تھے، جو یہ کہہ سکتے تھے کہ انہیں جرمن زبان پر اتنی دسترس ‌حاصل ہے کہ وہ ان کے لیے سماجی طور پر کافی ثابت ہو سکتی ہے۔

اس بارے میں 'بامف‘ نامی وفاقی جرمن دفتر کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان حوصلہ افزا نتائج کے باوجود جرمنی میں پناہ کی تلاش میں آنے والے غیر ملکیوں کے سماجی انضمام کا سارا منظر نامہ ہی بہت امید افزا نہیں ہے۔ یعنی وہ تارکین وطن، جن کا تعلق دنیا کے مختلف بحران زدہ خطوں اور ممالک سے ہوتا ہے اور جو پناہ کی تلاش میں جرمنی آتے ہیں، ان کی ایسے سماجی تربیتی پروگراموں میں  کامیاب شرکت ان غیر ملکیوں کے مقابلے میں کافی مشکل ثابت ہوتی ہے، جس کا تعلق یورپی یونین ہی کے مختلف ممالک سے ہوتا ہے اور جو جرمنی میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

خواتین کی شرکت کا تناسب کم تر

ساتھ ہی اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے سماجی انضمامی تربیتی پروگراموں میں تعلیم دینے والے افراد کو خصوصاﹰ پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں اور تارکین وطن کو جرمن زبان اور سماجی اقدار کی تعلیم دینے میں کافی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بڑے اسباب میں ایسے مہاجرین کا عموماﹰ غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ہونا، آبائی ممالک میں بحرانی حالات کے باعث انہیں درپیش نفسیاتی مسائل اور ایسے کورسز میں خواتین مہاجرین کی کم تر شرکت کا رجحان بھی شامل ہیں۔

Infografik Integrationskurs Teilnehmer nach Herkunft EN

اس صورت حال کے اسباب کی چھان بین کرتے ہوئے 'بامف‘ کی محققہ آنا ٹِسوٹ اس نتیجے پر پہنچیں کہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والی خواتین اکثر اپنے ساتھ آنے والے مردوں کے مقابلے میں تعلیمی لحاظ سے بہت پسماندہ ہوتی ہیں، وہ اکثر کسی بھی پیشے میں باقاعدہ تربیت یافتہ بھی نہیں ہوتیں اور بہت سے واقعات میں وہ ایسے ٹریننگ پروگراموں میں اس لیے حصہ نہیں لے سکتیں کہ انہیں اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے۔

سالانہ لاگت تقریباﹰ ڈھائی ارب یورو

جرمن ریاست ملک میں تارکین وطن کے سماجی انضمام پر کتنے وسائل خرچ کر رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2016ء میں ایسے کورسز میں تارکین وطن کو پڑھانے والے اساتذہ کا فی گھنٹہ اعزازیہ بھی بڑھا دیا گیا تھا۔ اس وقت ایسے اساتذہ میں سے 80 فیصد خواتین ہیں۔

تین سال قبل ان کی ماہانہ اجرت 23 یورو سے بڑھا کر 35 یورو کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جو اساتذہ ناخواندہ تارکین وطن کو تعلیم دیتے ہیں، انہیں ان کے فرائض کے مقابلتاﹰ زیادہ مشکل ہونے کی وجہ سے 40 یورو فی گھنٹہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن اور مہاجرین کی سماجی تربیت کرنے والے ایسے اساتذہ میں سے 76 فیصد جرمن شہری ہیں اور باقی 24 فیصد جرمنی میں مستقل رہائش پذیر غیر ملکی۔

جرمنی میں تارکین وطن کے سماجی انضمام کے ایسے پروگراموں کے نتائج پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے کافی تنقید بھی کی ہے۔ بائیں باز وکی سیاسی جماعت 'دی لِنکے‘ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسے تربیتی پروگراموں کی مجموعی حالت اطمینان بخش نہیں ہے۔

اسی طرح ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی طرف سے کہا گہا ہے کہ 'بامف‘ کے تازہ ترین ملکی جائزے کے نتائج غیر تسلی بخش تو ہیں لیکن حیران کن نہیں، حالانکہ ایسے پروگراموں پر جرمن حکومت جو رقوم خرچ کر رہی ہے، ان کی مالیت انتہائی زیادہ ہے۔ 'بامف‘ کے مطابق حکومت مہاجرین اور تارکین وطن کے سماجی انضمام پر سالانہ 2.4 ارب یورو خرچ کر رہی ہے۔

م م / ع ح (ڈی پی اے، اے ایف پی، کے این اے)

DW.COM