جرمنی: بارہ سالہ لڑکے کی بم حملے کرنے کی کوشش | حالات حاضرہ | DW | 16.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: بارہ سالہ لڑکے کی بم حملے کرنے کی کوشش

جرمن شہر لڈوِگس ہافن کی کرسمس مارکیٹ میں دو مرتبہ بم حملے کی کوشش ناکام ہو گئی۔  ان واقعات میں ملوث ہونے کا شبہ ایک بارہ سالہ لڑکے پر ہے۔

شہر فرانکن تھال کے دفتر استغاثہ نے بتایا کہ ایک بارہ سالہ لڑکے نے خود ساختہ بموں کے ذریعے پہلے چھبیس نومبر اور پھر پانچ دسمبر کو دو مختلف کرسمس مارکیٹس میں حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس بارہ سالہ لڑکے کے پاس جرمن اور عراقی شہریت ہے۔ ابتدائی تفتیش میں اس شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر  اس لڑکے کے پیچھے  دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا کوئی رکن ہو سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس کو کرسمس مارکیٹ سے ایک ایسی شیشی ملی تھی، جس میں آتش گیر مادہ بھرا ہوا تھا۔ دفتر استغاثہ نے مزید بتایا کہ یہ شیشی ایک بیگ میں رکھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ فوکس نامی جریدے نے لکھا ہے کہ دوسرے بم کی تیاری میں بارودی مواد کے ساتھ کیلیں شامل کی گئی تھیں۔ ایک راہ گیر نے یہ بیگ دیکھ کر پولیس کو آگاہ کیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ان دونوں واقعات میں بم کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے پھٹ نہیں سکے۔ جرمنی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ جس میں کسی اتنے کم عمر فرد نے  دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کی ہو۔

 بتایا گیا ہے کہ اس بارہ سالہ لڑکے کا تعلق بھی لڈوِگس ہافن سے ہی ہے۔ چیف پراسیکیوٹر ہوبرٹ اسٹرؤبر نے بتایا کہ فرانکن تھال کے دفتر استغاثہ نے اس لڑکے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ مقدمہ وفاقی دفتر استغاثہ کے سپرد کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے بقول چودہ سال سے کم عمر کسی بھی فرد کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور اس طرح  کے کسی بھی واقعے میں حکام کو تفتیش کرنی ہو گی،’’ اس بچے کو نوجوانوں کے لیے قائم محکمے کے سپرد کر دینا چاہیے۔‘‘

اشتہار