جرمنی اور بھارت کے مابین تعاون کو مزید بڑھایا جائے، جرمن صدر | حالات حاضرہ | DW | 24.03.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی اور بھارت کے مابین تعاون کو مزید بڑھایا جائے، جرمن صدر

جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک ایسے وقت پر بھارت کا دورہ کیا ہے، جب اس ملک میں مذہبی سطح پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ہندوؤں، بدھ مت اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا دورہ کیا۔ 

جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے ہفتے کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے اقتصادی اور سیاسی روابط بڑھانے کی وکالت کی۔  شٹائن مائر نے مزید کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد باہمی رابطوں کو مضبوط کرنا اور انہیں ایک نئی جہت دینے کی کوشش کرنا ہے۔

اس سے قبل جرمن صدر نے اپنے بھارتی ہم منصب رام ناتھ کووند سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’جرمنی نے بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اٹھارہ سو سے زائد جرمن کمپنیوں نے بھارت میں روزگار کے چار ہزار سے زائد مواقع پیدا کیے ہیں۔‘‘ ان کے بقول مختلف شعبوں میں ابھی بھی بہت زیادہ امکانات موجود ہیں، ’’ اسی وجہ سے ہمیں چاہیے کہ جرمنی اور بھارت کے مابین تجارت مزید بڑھے، ٹیکنالوجی اور مواصلات کے شعبوں میں ہم  دونوں مل کر مزید کام کریں۔‘‘

جرمنی یورپی یونین میں بھارت کا سب سے بڑا جبکہ بین الاقوامی سطح پر چھٹا بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ ان دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کا حجم  گزشتہ مالی سال کے دوران انیس ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا تھا۔ جرمنی کا شمار بھارت کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کار ممالک میں ہوتا ہے۔

جرمن صدر شٹائن مائر اپنی اہليہ ايلکے بيوڈنبينڈر کے ہمراہ بھارت کے پانچ روزہ دورے پر جمعرات کے روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ جرمن صدر جمعرات کو قديم شہر وراناسی گئے تھے اور اس دوران شٹائن مائر نے بھارت کی آزادی کے ہيرو مہاتما گاندھی کی ياد گار کا بھی دورہ کيا تھا اور وزير خارجہ ششما سوراج سے بھی ملاقات کی تھی۔

جرمن صدر اپنے وفد کے ہمراہ اتوار سے سری لنکا کا دورہ شروع کریں گے۔