جرمنوں کے مقابلے میں تارکین وطن خسارے میں | مہاجرین کا بحران | DW | 17.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنوں کے مقابلے میں تارکین وطن خسارے میں

جرمن دفتر شماریات کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ترک وطن پس منظر کے حامل افراد کی تعلیم، روزگار اور آمدن کے حوالے سے صورت حال جرمنوں کی نسبت کافی خراب ہے۔

وفاقی جرمن دفتر شماریات ملک میں تارکین وطن کے انضمام کے حوالے سے رپورٹس بھی مرتب کرتا ہے۔ ایسی ہی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمن شہریوں کے مقابلے میں ملک میں بسنے والے ترک وطن پس منظر کے شہری تعلیم، روزگار اور آمدن کے حوالے سے کافی پیچھے ہیں۔ ادارے کے مطابق سن 2005 سے لے کر اب تک دونوں طرح کے شہریوں میں پائے جانے والے اس فرق میں بحیثیت مجموعی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

بلغاریہ میں پھنسے ہزارہا مہاجرین اور تارکین وطن

تعلیم

اپنی تازہ رپورٹ میں وفاقی دفتر شماریات نے ملک میں بسنے والے اٹھارہ سے پچیس برس تک کی عمر کے تارکین وطن اور جرمن شہریوں کی تعلیمی قابلیت کا تقابل کیا ہے جس کے مطابق صرف چار فیصد جرمن شہری ایسے ہیں جو انٹرمیڈیٹ درجہ تک تعلیم حاصل نہیں کر پائے۔ ’اسکول پاس کرنے کا سرٹیفیکیٹ‘ حاصل نہ کر پانے والے جرمن شہریوں کے تناسب میں سن 2005 اور سن 2016 کے مابین کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی۔

تاہم اس حوالے سے تارکین وطن کے اعداد و شمار میں تبدیلی دیکھی گئی۔ سن 2005 میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل نہ کرنے والے غیر ملکی پس منظر کے افراد کی شرح قریب گیارہ فیصد تھی جو کہ سن 2011 میں کم ہو کر 8.3 فیصد رہ گئی تھی تاہم ایک ملین سے زائد مہاجرین کی آمد کے بعد یہ شرح سن 2016 میں بارہ فیصد سے تجاوز کر گئی۔

غیر ملکی پس منظر رکھنے والے افراد میں جرمنی میں نئے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن بھی شمار کیے گئے ہیں اور ملک میں پہلے سے آباد ترک وطن پس منظر کے حامل جرمن شہری بھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جرمنی ہی میں پیدا ہونے والے غیر ملکی پس منظر کے حامل جرمن شہریوں میں یہ تناسب سن 2005 میں 6.7 ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ گیارہ برس بعد اب بھی اسی سطح پر برقرار ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے والے غیر ملکی پس منظر کے افراد کی تعداد میں ایک دہائی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب جرمن شہری اور ترک وطن پس منظر کے حامل افراد تقریبا ایک ہی سطح پر ہیں۔

روزگار

اس رپورٹ میں ایسا ہی تقابل روزگار اور ملازمتوں کے حوالے سے بھی کیا گیا۔ جرمنی میں غیر ملکی پس منظر رکھنے والے افراد میں سن 2005 میں بے روزگاری کی شرح قریب اٹھارہ فیصد تھی جو کہ سن 2016 میں کم ہو کر سات فیصد رہ گئی۔ اسی طرح بے روزگار جرمن شہریوں کی شرح بھی 2005ء میں 9.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جو قریب ایک دہائی بعد محض 3.4 فیصد رہ گئی۔

ملکی اقتصادی ترقی کے باعث مجموعی طور پر دونوں طرح کے گروہوں میں بے روزگاری کی شرح میں اگرچہ کمی واقع ہوئی ہے تاہم شماریاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو اب بھی جرمن شہریوں کے مقابلے میں غیر ملکی پس منظر کے حامل افراد کو جرمنی میں روزگار ملنے کے امکانات کافی کم ہیں۔

آمدن

جرمنی میں روزگار کے حامل ایسے افراد کی، جن کے سطح غربت تک پہنچنے کے امکانات واضح ہیں، فیصدی تعداد میں گزشتہ دہائی کے دوران کوئی واضح تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ غیر ملکی پس منظر رکھنے والے جرمن شہریوں اور مہاجرین کے ذرائع آمدن جرمن شہریوں کی نسبت کافی کم ہے۔

جرمنی: سیاسی پناہ کے نئے ضوابط کے سات اہم نکات

اٹلی: گزشتہ پانچ برسوں میں کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

DW.COM

اشتہار