جرمنوں کی اوسط متوقع عمر میں مسلسل اضافہ، عورتیں مردوں سے آگے | معاشرہ | DW | 05.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنوں کی اوسط متوقع عمر میں مسلسل اضافہ، عورتیں مردوں سے آگے

جرمنی میں عام شہریوں کی اوسط متوقع عمر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور جرمن عورتیں مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل العمر ہوتی ہیں۔ یہ بات وفاقی جرمن دفتر شماریات کی ایک نئی رپورٹ میں منگل پانچ نومبر کو بتائی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، آج پیدا ہونے والی لڑکیوں کی اوسط متوقع عمر 83.3 برس ہو گی جبکہ نئے پیدا ہونے والے لڑکے اوسطاﹰ 78.5 سال تک زندہ رہیں گے۔ یوں جرمنی میں آج پیدا ہونے والے بچوں میں سے مستقبل کی عورتوں کی متوقع فی کس اوسط عمر مستقبل کے مردوں کے مقابلے میں 4.8 سال زیادہ ہو گی۔

Deutschland Geburten Statistik Baby auf Geburtsstation

اس بات کو ایسے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جرمنی میں اب پیدا ہونے والے بچوں میں سے لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں، اپنی ساری عمر گزار کر، اوسطاﹰ فی کس 4.8 سال پہلے انتقال کر جائیں گے۔

ہر عشرے بعد زندگی کا اوسطاﹰ ایک اور اضافی سال

جرمن صوبے ہیسے کے شہر ویزباڈن میں قائم وفاقی دفتر شماریات نے بتایا ہے کہ جرمن عوام میں طویل العمری کے رجحان سے متعلق یہ نئے حقائق دو ہزار سولہ سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک کے لیے اس ڈیٹا کے تجزیے کے نتیجے میں سامنے آئے، جسے باقاعدہ طور پر 'لائف ٹیبل‘ کہا جاتا ہے۔

اس 'لائف ٹیبل‘ کے مطابق آج کے جرمنی میں دو ہزار پندرہ سے لے کر دو ہزار سترہ تک کے 'لائف ٹیبل‘ کے مقابلے میں مردوں اور عورتوں دونوں ہی کی اوسط متوقع عمروں میں فی کس 0.1 سال کا مزید اضافہ دیکھا گیا۔

ایک ترقی یافتہ صنعتی ملک کے طور پر جرمنی میں، جہاں عام شہریوں کو صحت کی مناسب سہولتیں دستیاب ہیں اور صحت مند طرز زندگی پر بھی کافی دھیان دیا جاتا ہے، شہریوں کی اوسط متوقع عمر میں سالانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دو ہزار چھ سے لے کر دو ہزار آٹھ تک کے 'لائف ٹیبل‘ کی تیاری تک تو ایسا بھی تھا کہ جرمن باشندوں کی متوقع اوسط عمر میں ہر سال 0.2 برس کا اضافہ ہوتا رہا تھا۔

عورتیں مردوں سے زیادہ طویل العمر

ماضی کے مقابلے میں اب عام جرمن شہریوں کے متوقع اوسط عرصہ حیات میں اس تیز رفتاری سے اضافہ نہیں ہو رہا، جتنا چند عشرے پہلے تک دیکھنے میں آتا تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں ایک خاص سطح تک پہنچ جانے کے بعد طویل العمری میں مزید اضافے کی بھی کئی مختلف عوامل کے باعث اپنی ہی حدود و قیود ہوتی ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ کہ تقریباﹰ دو عشرے قبل، جب اکیسویں صدی شروع ہوئی تھی تو جرمن عورتوں کی مردوں کے مقابلے میں متوقع اوسط عمر چھ سال زیادہ تھی۔ اب لیکن دونوں اصناف کے مابین متوقع عمر کا یہ فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ فرق رواں صدی کی پہلی دہائی کے خاتمے تک کم ہو کر پانچ سال رہ گیا تھا۔ اب دو ہزار سو لہ اور دو ہزار اٹھارہ کے 'لائف ٹیبل‘ میں یہ فرق مزید کم ہو کر 4.8 سال رہ گیا ہے۔

م م / ع ا (ڈی پی اے، کے این اے)

DW.COM