جدید یورپی تاریخ نویسی کیسے شروع ہوئی؟ | دستک | DW | 23.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کالم

جدید یورپی تاریخ نویسی کیسے شروع ہوئی؟

تاریخ نویسی اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی ماحول کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یورپ کی جدید تاریخ نویسی کا پس منظر روشن خیالی کی تحریک، چرچ کے زوال اور قدیم و جدید نظریات کے درمیان تصادم سے بھرپور ہے۔

رینے ساں کے بعد یورپ میں یونان اور رومی تہذیبوں کا تسلط تھا۔ اس نے تاریخ نویسی کو بھی متاثر کیا تھا۔ لیکن اٹھارہویں صدی میں جب فرانس سے روشن خیالی کی ابتدا ہوئی تو اس کے مفکرین اور مؤرخین نے خود کو یونانی تہذیب کے بندھنوں سے آزاد کر کے اپنی سرزمین کی طرف توجہ دی اور تاریخ کے ارتقاء کو اپنے ماحول کے تناظر میں دیکھا۔

 اس سلسلے میں تاریخ نگاروں کو رینے ساں عہد کے کچھ مورخین کے نظریات سے فائدہ بھی ہوا۔ مثلاً یول میشلے (فرانس کے مورخ) نے 'نیو سائنس‘ میں اپنے نظریات کو بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق خدا نے اس دنیا کو تخلیق کیا ہے مگر اس کی تشکیل میں انسان کا بھی حصہ ہے۔ لہٰذا یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اس دنیا کی خرابیوں کی اصلاح کرے۔

مشیل بینٹلے نے اپنی کتاب 'ماڈرن ہسٹری‘ میں تین یورپی ملکوں کی تاریخ نویسی کا جائزہ لیا ہے۔ ان میں انگلستان، جرمنی اور فرانس ہیں۔ یہاں ہم تینوں ملکوں کی تاریخ نویسی کا جائزہ لیں گے۔

انگلستان کی جدید تاریخ نویسی

 انگلستان کے مورخ بادشاہت اور ریاست کے اداروں کی تاریخ کا آغاز 1066ء میں ولیم اول یا ولیم فاتح سے کرتے ہیں، جو حملہ آور بھی تھا اور نجات دہندہ بھی۔ انگلستان کی تاریخ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کے گرد گھومتی ہے۔ سن  1215ء میں میگنا کارٹا کے بعد سے پارلیمنٹ کے اختیارات بڑھ گئے۔ سول وار نے مزید پارلیمنٹ کو مضبوط کیا۔ یہاں تک کے 1988ء میں شاندار انقلاب نے پارلیمنٹ اور بادشاہ کو آمنے سامنے کر دیا لیکن انگلستان کی تاریخ میں قانون اور دستور کے ارتقائی مراحل کا تفصیل سے ذکر ہے۔

انگلستان میں دو سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے تاریخ نویسی بھی متاثر ہوئی۔ ٹوری پارٹی، جو قدامت پسند ہے، وہ اداروں میں تبدیلی نہیں چاہتی تھی۔ جبکہ ویگ پارٹی اداروں اور روایات میں وقت کے ساتھ تبدیلی چاہتی تھی۔ فلسفی ڈیوڈ ہیوم نے انگلستان کی تاریخ لکھی، جو قدامت پسندی کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔

اس کے مقابلے میں دوسرا انگریزی مورخ لارڈ میکولی (d.1859) تھا، جس نے کئی جلدوں میں انگلستان کی تاریخ لکھی۔ یہ رومانوی تحریک سے متاثر تھا۔ اس نے تاریخ اور ادب کو ملا کر واقعات کو دلکش انداز میں پیش کیا، جس کی وجہ سے اس کی کتاب انگلستان اور امریکا میں بے حد مقبول ہوئی۔

Mubarak Ali

ڈاکٹر مبارک علی

تیسرا اہم مورخ تھامس کار لائیل (d.1881) تھا۔ اس نے تاریخ میں ہیروز کو اہمیت دیتے ہوئے انہیں تاریخ ساز کہا ہے۔ اس نے کروم ویل (d.1658) اور فریڈرک دوئم پروشیاء کی سوانح حیات لکھی۔ فریڈرک دوئم کی سوانح حیات جرمنی میں بے حد مقبول ہوئی اور یہ ہٹلر کی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک تھی۔

جی ایلٹن نے تھیوڈر خاندان پر کتاب لکھی، جس میں اس نے ہنری ہشتم (شاہ انگلستان) کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے تمام مخالفین کا خاتمہ کر دیا تھا۔ لہٰذا اس کے نزدیک مخالفوں کی موجودگی میں کوئی حکومت طاقتور نہیں ہو سکتی ہے۔

انگلستان میں بیسویں صدی کے آتے آتے تاریخ نویسی کی جڑیں گہری ہو گئی تھیں اور اس کے مورخ نہ صرف اپنے ملک کی تاریخ بلکہ اپنی کالونیز کی تاریخ کو بھی لکھ رہے تھے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں میں ہونے والے واقعات بھی ان کی تاریخ نویسی میں شامل ہو گئے تھے۔

جرمنی کی جدید تاریخ نویسی

جرمنی کیونکہ ایک متحد ملک نہیں تھا بلکہ کئی ریاستوں میں تقسیم تھا، اس لیے اس کے فلسفیوں اور مورخین کی کوشش تھی کہ جرمن زبان اور تاریخ کے ذریعے قوم میں اتحاد کے جذبات پیدا کیے جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو منصوبوں پر عمل کیا۔ ایک جرمن زبان کو وسعت دینے کی تحریک چلائی اور دوسرا جرمن تاریخ کی تشکیل کے لیے ادارے قائم کئے گئے۔

 1771ء میں گوٹینگن  یونیورسٹی میں تاریخ کا شعبہ قائم کیا گیا اور یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ جرمن تاریخ کے اہم ماخذوں کو اکٹھا کیا جائے۔ اس کے بعد ماخذوں کا ناقدانہ تجزیہ کرنے کی تربیت دی گئی۔ دستاویزات میں جو کچھ لکھا ہے، اسے درست مان کر تسلیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسرے ماخذوں سے مقابلہ کر کے اس کو قبول کرنا چاہیے۔ حوالہ جات دینے پر بھی زور دیا گیا اور جن مخطوطات اور کتابوں سے مدد لی گئی۔ ان کی کتابیات کو بھی شامل کرنا ضروری سمجھا گیا۔

1510ء میں برلن یونیورسٹی میں مشہور مورخ لیوپولڈ رانکے (d.1886) کو تاریخ کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ اس نے تاریخ نویسی میں، جو اصول و ضوابط مقرر کیے، اسے تاریخی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے عہد میں یورپ کی سلطنتوں میں اپنی خفیہ دستاویزات، عہدنامے اور ڈپلومیسی کی معلومات کو مورخین کے لیے دستیاب کر دیا گیا۔ رانکے کا استبدایہ یہ تھا کہ صحیح تاریخ ان دستاویزات کی وجہ سے ہی لکھی جا سکتی ہے لیکن مورخ کو اپنا کوئی فیصلہ نہیں دینا  چاہیے بلکہ تاریخ کو معروضی طور پر لکھنا چاہیے۔

دستاویزات کا تنقیدی جائزہ لینے سے جرمنی میں علم لسانیات کو فروغ حاصل ہوا۔ اس کی مدد سے دستاویزات میں اگر بعد میں اضافے کیے گئے تھے تو اس کی نشاندہی کر لی گئی۔ رانکے کی تحریک کا اثر نہ صرف جرمنی میں ہوا بلکہ یورپ کے دوسرے ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اس کے شاگردوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جنہوں نے جرمن تاریخ کو نہ صرف وسعت دی بلکہ اسے نئے خیالات اور افکار سے بھی نوازا۔ جرمن تاریخ نویسی پر اس کے فلسفیوں نے بھی اثر ڈالا۔ ان میں کانٹ، ہیگل، ہیرڈر اور نطشے شامل ہیں۔ جرمن تاریخ نگاروں اور فلسفیوں نے بائبل کا تنقیدی مطالعہ کیا اور اس نے بہت سے مذہبی عقائد کو توڑا۔

اگر ہم کارل مارکس کو بھی یہاں شامل کر لیں تو اس کے نظریے نے بھی تاریخی فکر کو بدلا ہے۔ بنیادی طور پر مارکس نظام پیداوار اور ذرائع پیداوار کے درمیان کشمکش کو تاریخی عمل کا حصہ سمجھتا ہے۔ دوسرا اس کا کہنا ہے کہ دنیا کی تاریخ طبقاتی تاریخ ہے، جو غلام اور آقا، جاگیردار اور مزارعے، سرمایہ دار اور مزدور کے درمیان جاری ہے اور وہ امید کرتا ہے کہ سوشل ازم اس فرق کو ختم کرے گا۔ جرمن تاریخ نویسی پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد تیزی سے تبدیلی ہوئی۔ جرمن مورخوں میں یہ بحث شروع ہوئی کہ کیا ہٹلر اور نازی پارٹی جرمن تاریخی روایت کا حصہ تھے یا وقتی حالات کے تحت وہ اقتدار میں آ گئے تھے۔ جدید جرمن مورخ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ تاریخ کے ذریعے جرمن قوم کو ان جرائم سے چھٹکارا دلائیں، جو نازیوں نے کیے تھے۔

فرانس میں جدید تاریخ نویسی

فرانسیسی انقلاب نے تاریخ نویسی میں بھی تبدیلیاں کیں اور 1830ء کا انقلاب نیپولین کی حکومت اور 1848ء کے انقلاب نے ان کی سیاست کو بدلا اور تاریخ نویسی کو بھی۔ میشلے نے فرانسیسی انقلاب پر کئی جلدوں میں تاریخ لکھی ہے۔ لیکن فرانس کی تاریخ نویسی میں 1930ء کی دہائی میں ایک انقلاب آیا۔ یہ انقلاب لانے والے دو پروفیسر لوسیاں فیور اور مارک بلوخ تھے۔ انہوں نے آنالز کے نام سے نئے مکتبہ تاریخ کی بنیاد رکھی۔ اس میں انہوں نے تاریخ کو سیاست اور معیشت سے نکال کر سماجی اور ثقافتی موضوعات کا مرکز بنایا۔

اس میں انسانی جذبات اور احساسات بھی شامل تھے۔ لوسیاں فیور نے فرانسیسی کسانوں اور فرانسیسی انقلاب پر کتابیں لکھیں اور وہ ریاست کی حکمرانی کا قائل نہیں تھا۔ مارک بلوخ نے سماج کے اہم موضوعات کو اپنایا۔ اس کی کتابوں میں فیوڈل سوسائٹی، پن چکی اور بادشاہ کا چھونا شامل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ دوسری نسل کے اہم مورخوں میں فیرناں بروڈیل قابل ذکر ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں یہ بھی جرمنوں کی قید میں رہا اور یہاں اس نے اپنی یادداشت کی مدد سے ''میڈیٹرین انڈر دی رول آف فلپ (دوئم) آف سپین‘‘ لکھی۔ اس پر اسے بعد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ آب و ہوا کی وجہ سے تبدیلی آتی ہے۔

لیکن یہ تبدیلی ہزاروں برس کے بعد آتی ہے۔ اسے وہ طویل دورانیے کا نام دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی مشہور کتابوں میں 'سویلائزیشن آر کیپٹلائزیشن‘ تین جلدوں میں ہے۔ آنالز سکول کے مورخوں نے ان موضوعات پر تحقیق کی ہے، جو اب تک تاریخ سے خارج تھے۔ ان میں خوشبو، صفائی، غصہ، آنسو اور ایسے ہی دوسرے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے ایک مورخ رویے نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے چار جلدوں میں 'ہسٹری آف پرائیویٹ لائف‘ لکھی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے مورخوں میں مارکس کے تاریخی نظریات کو کافی اہمیت دی گئی اور اس کی وجہ سے عوامی تاریخ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس میں نہ صرف مزدوروں، کاریگروں اور کسانوں کی تاریخ ہے بلکہ عورتوں کی تاریخ بھی ہے، جنہیں اب تک تاریخ سے باہر رکھا گیا تھا۔

 امریکا میں بھی یورپی تاریخ نویسی کے زیر اثر تاریخ کے سفید فارم نسل پرستی کے جذبات ہیں۔ وہاں اب افریقی امریکی تاریخ کے ذریعے اپنی شناخت کو مکمل کر رہے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ کے آزاد ہونے والے ممالک بھی اب اپنی نئی تاریخ کی تشکیل کر رہے ہیں۔ جس طرح تاریخ کی وسعت بڑھی ہے یہ یقیناﹰ قوموں میں آزادی اور خود اعتمادی کا شعور پیدا کرے گی۔