جاپان: نوجوان خواتین میں خودکُشی کی شرح میں نمایاں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جاپان: نوجوان خواتین میں خودکُشی کی شرح میں نمایاں اضافہ

جاپان کا شمار برسوں تک دنیا کے ان ممالک میں ہوتا رہا، جہاں خودکشیوں کی شرح بہت زیادہ تھی۔ تاہم 2010 ء سے اس شرح میں کمی پیدا ہونا شروع ہوئی تھی لیکن اب کورونا بحران نے اس صورتحال کو پھر سے تبدیل کر دیا ہے۔

جاپان میں خودکشیوں کی تعداد میں کمی نسبتاً مستحکم اقتصادی صورتحال اور معاشرتی امداد کی اچھی پیشکش کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن اب کورونا بحران نے صورتحال کو پھر سے گھمبیر بنا دیا ہے۔ خاص طور سے بہت سی نوجوان خواتین زندگی سے بیزار ہو کر خودکُشیاں کر رہی ہیں۔

ٹوکیو میں ایک طالبعلم نے خواتین میں خودکُشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک سال قبل اُس نے ایک آن لائن مشاورتی مرکز قائم کیا۔ دریں اثناء 30 ہزار سے زیادہ افراد اس مشاورتی مرکز سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

کوکی اوزورا کا مشاورتی مرکز

کوکی اوزورا خودکشی کا ارادہ رکھنے والی بہت سی خواتین کو اپنے مشاورتی مرکز کے ذریعے دوبارہ زندگی کی طرف واپس لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ بائیس سالہ طالبعلم کوکی اوزورا کی اس تحریک کا نام ہے،'' تمہارے لیے ایک جگہ۔‘‘

Coronavirus in Japan Tokio Frauen mit Schutzmasken

کورونا کا بحران نوجوان جاپانیوں کے لیے بڑا امتحان۔

 ان کی اس پروگرام میں اندرون اور بیرون ملک سے نو سو رضاکار شریک ہو چکے ہیں۔ ان سب کا مقصد زندگی کو خیر باد کہنے کا ارادہ رکھنے والوں کو زندگی جیسی نعمت کی اہمیت کا احساس دلانا اور انہیں زندہ رہنے کا حوصلہ دینا ہے تاکہ وہ دوبارہ جینے کی امنگ اور ہمت کے ساتھ زندگی میں واپس لوٹیں۔

 اپنے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کوکی نے کہا،'' اُس نے خود کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے پھندا تک خرید لیا تھا تاہم ایسا کرنے سے پہلے اُس نے میرے آن لائن مشاورتی مرکز کا رخ کیا۔ ہم نے اس کے ساتھ بہت سی باتیں کیں اور آخر کار اُس کی زبان سے یہ جملہ نکلا، میں کل بھی جینا چاہتی ہوں۔‘‘

کوکی اوزورا اپنے مشاورتی مر کز میں کام کے طریقہ کار کے بارے میں کہتے ہیں،''ایمرجنسی کی صورتحال میں ہمارے مشیر پریشانی سے دوچار افراد سے بات چیت کے دوران انتہائی ہوشیاری سے سوالات کرتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر خودکشی کے لیے کس جگہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پھر وہ پولیس کو پیشگی اطلاع دے دیتے ہیں اور پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے۔‘‘

Japan Zeremonie und Fest der Volljährigkeit

جاپان میں لڑکیوں کی بہت سخت تربیت کی جاتی ہے۔

مدد حاصل کرنے والے کون؟

کوکی اوزورا کے آن لائن مشاورتی مرکز ،'' تمہارے لیے ایک جگہ‘‘ سے مدد حاصل کرنے  والوں میں 80 فیصد خواتین ہوتی ہیں، جن کی اوسطاﹰ عمر 26 سال ہوتی ہے۔ شروع شروع میں مشاورت کے سلسلے میں کی جانے والی پوچھ گچھ سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر کیسز گھریلو تشدد، موببنگ یا تنہائی کے ہوتے ہیں۔  اوزورا کے مطابق ان مسائل کی شکار زیادہ تر خواتین نے خودکُشی کے ارادے کی نشاندہی کی۔

حالیہ کورونا بحران بھی خواتین میں خودکُشی کے رجحان میں اضافے کی ایک بہت بڑی وجہ بنا ہے۔ طالبعلم کوکی اوزورا کہتے ہیں،'' اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ موسم بہار میں ہمیں ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ لوگ گھر سے نہیں نکل سکتے تھے، کورونا کا خوف الگ انہیں پریشان کیے ہوئے تھا، بہت سے تو ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان پریشانیوں اور ذہنی تناؤ کے  سبب انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا سوائے خود کُشی کے۔ کچھ نے سوچا ان سب پریشانیوں سے نجات کا راستہ بس یہی ہے۔‘‘

Japan I Koki Ozora I Gründer Anata no Ibasho

کوکی اوزورا خود کشی کے رجحان میں کمی کے لیے کوشاں۔

2020ء ایک بھیانک سال

جاپان میں پژمردگی کا شکار ہونے والے افراد کے لیے گزشتہ سال یعنی 2020 ء بھیانک خواب سے کم ثابت نہ ہوا۔ مسائل کا شکار ہو کر خودکُشی کرنے والی صرف خواتین کی تعداد 885 رہی۔ اس ملک کے سب سے بڑے معاشی تحقیقاتی ادارے نومورا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف دسمبر میں قریب  نو لاکھ جز وقتی یا پارٹ ٹائم کام کرنے والی خواتین عملی طور پر بے روز گار ہو گئیں تھیں۔ مطلب یہ کہ یا تو ان کے اوقات کار کم ہو کر آدھے رہ گئے تھے یا ان کو تلافی کے طور پر معاوضوں کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی تھی۔

اس صورتحال میں خواتین اضافی افسردگی کا شکار ہوئیں۔ جاپان کی وسیدا یونیورسٹی کی ایک خاتون سائنسدان بھی برسوں سے خودکُشی کے موضوع پر ریسرچ کر رہی ہیں اور وہ اسی تنظیم میں بطور رضاکار  بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپانی معاشرہ غیر معمولی حد تک سخت ہے، بلکہ معاشرتی سختی کی ایک مثال ہے۔ وہاں خواتین پر سب سے زیادہ معاشرتی دباؤ ہوتا ہے۔

کاتھرین ایرڈمان / ک م / ا ا

DW.COM