جاپان میں 54 برس میں پہلی بار نومبر میں برف باری | فن و ثقافت | DW | 24.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جاپان میں 54 برس میں پہلی بار نومبر میں برف باری

جاپان میں جمعرات کے روز 54 برسوں میں پہلی بار نومبر میں برف باری ہوئی۔ جاپانی محکمہء موسمیات اس سلسلے میں سن 1875 سے ریکارڈ جمع کر رہا ہے۔

جاپان میں نومبر میں برف باری اس لیے بھی غیرمعمولی واقعہ ہے، کیوں کہ عموماﹰ نومبر کا مہینہ سرد تو ہوتا ہے، مگر برف باری نہیں ہوتی۔ محکمہء موسمیات کے مطابق دارالحکومت ٹوکیو میں گزشتہ پچاس سے زائد برسوں میں پہلی بار ماہِ نومبر میں جمعرات کے روز پہلی مرتبہ زمین پر برف پڑی دکھائی دی۔

اطلاعات کے مطابق غیر عمومی طور پر سرد ہواؤں کی وجہ سے دارالحکومت درجہء حرارت نقطہء انجماد سے کئی درجے نیچے ہونے کی وجہ سے برف دیر تک سڑکوں پر پڑی دکھائی دی، جب کہ متعدد علاقوں میں گاڑیوں کی نقل و حرکت میں تعطل پیدا ہوا۔

Japan Schneechaos (picture-alliance/dpa)

جاپانی ثقافت میں موسموں کی تبدیلی کو خاص اہمیت حاصل ہے

جاپانی محکمہء موسمیات کا کہنا ہے کہ ٹوکیو کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں زیادہ برف باری ہوئی ہے، تاہم شہر میں بھی قریب دو سینٹی میٹر تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔ برف باری کے نتیجے میں متعدد ٹرینیوں کے تاخیر کا شکار ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سے قبل نومبر سن 1962ء میں ٹوکیو کے وسطی حصے میں برف باری ہوئی تھی۔ روئٹرز کے مطابق اس سے قبل چھ دسمبر برف باری کے اعتبار سے وہ اولین تاریخ تھی، جب سن 1987ء میں ٹوکیو میں برف پڑی تھی۔

یہ بات اہم ہے کہ جاپانی ثقافت میں موسموں کی تبدیلی کو غیرمعمولی حیثیت حاصل ہے۔ جاپان میں پہلی برف باری کو ایک خصوصی لفظ ’ہاتسوکی‘ کہا جاتا ہے، جس کا لفظی مطلب ’پہلی برف باری‘ ہے۔ وہ برف جو زمین پر پڑی دیکھی جا سکے، جاپانی زبان میں اسے ’سیکیسیتسو‘ کہا جاتا ہے۔ ٹوکیو کے نصف سے زائد حصے پر برف پڑے، تو اسے جاپانی زبان میں ’کیتانو مارو‘ یا ’سفید موڑ‘ قرار دیا جاتا ہے۔

جاپانی صنف شاعری ہائیکو میں بھی موسموں کی تبدیلی کو خاص طور پر تحریر کیا جاتا ہے، جہاں ہر حال میں گرمی، سردی، خزاں یا بہار کا لفظ اس کے تین میں سے کسی ایک مصرعے میں ضرور لایا جاتا ہے۔

 

اشتہار