جاپانی ریلوے نے ٹرین جلد روانہ کرنے پر معذرت کر دی | معاشرہ | DW | 17.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جاپانی ریلوے نے ٹرین جلد روانہ کرنے پر معذرت کر دی

جاپان میں ریلوے کے نگران ادارے نے ایک ٹرین کو کچھ سیکنڈ قبل روانہ کرنے پر معذرت پیش کی ہے۔ ٹرین کے جلد روانہ ہونے پر پیش کی جانے والی معذرت پر جاپانی سماجی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کے ایک نواحی اسٹیشن سے تسوکوبا ایکسپریس مقررہ وقت سے بیس سیکنڈ قبل روانہ کر دی گئی تھی۔ اس کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ ٹرین کی روانگی گھڑیوں پر درست وقت نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی یا ریل گاڑی کے نگران عملے نے دانستہ طور پر جلدی کی تھی۔ یہ طے ضرور ہے کہ جاپان ریلوے نے اس پر اپنی معذرت پیش کی ہے۔

چین نے لندن تک پہلی مال بردار ٹرین سروس بھی شروع کر دی

چین میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کی ٹکر سے متعدد ہلاکتیں

ریل گاڑیوں کا شور ہزاروں انسانی ہلاکتوں کی وجہ، نئی تحقیق

جاپان ریلوے نے اپنے معذرت نامے میں بیان کیا کہ اس کا احساس کیا گیا ہے کہ ریل گاڑی کی بیس سیکنڈ جلد روانگی سے مسافروں کو یقینی طور پر ناگواری اور زحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ ادارے کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ ریل گاڑی کے جلد روانہ ہونے پر کسی بھی مسافر کی جانب سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ تسوکوبا ایکسپریس کی انتظامیہ نے اس یقین کا بھی اظہار کیا ہے کہ بیس سیکنڈ پہلے روانہ ہونے والی ٹرین پر سوار ہونے سے کوئی مسافر رہ بھی نہیں گیا ہو گا۔

Shinkansen Zug Japan Modell 15.08.2014 (picture-alliance/dpa)

جاپان کی بُلٹ ٹرین کا انجن

یہ امر اہم ہے کہ جاپان ریلوے کی ریل گاڑیاں بشمول شِن کانسین بلٹ ٹرین دنیا بھر میں پابندی وقت کی وجہ سے بلند مقام رکھتی ہیں۔ ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹرین سروس میں تاخیر دیکھی گئی ہو۔ ہلکی سی تاخیر پر بھی ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں سے بھرپور معذرت کی جاتی ہے۔ ان معذرت ناموں پر بسا اوقات سوشل میڈیا کے صارفین حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ حکومت کو بھی ریلوے کے انداز میں ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی پر بھی غور کرتے ہوئے عوام سے معذرت کرنی چاہیے۔ موٹر کاروں سے نکلنے والے دھوئیں کے اخراج کے حوالے سے جعلی اعداد وشمار کا اسکینڈل بھی اس وقت جاپان میں گردش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں جاپانی کار ساز ادرے نیسان اور سُوبارُو کا اعتراف بھی سامنے آ چکا ہے۔

DW.COM

اشتہار