جاوید اختر جب تک معافی نہیں مانگتے ان کی فلم نہیں چلنے دیں گے، بی جے پی | حالات حاضرہ | DW | 06.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جاوید اختر جب تک معافی نہیں مانگتے ان کی فلم نہیں چلنے دیں گے، بی جے پی

بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے سخت گیر ہندو نظریات کی تنظیم آر ایس ایس کا موازنہ طالبان سے کیا۔ بی جے پی نے دھمکی دی ہے کہ جب تک وہ معافی نہیں مانگتے اس وقت تک ان کی کوئی بھی فلم نہیں چلنے دی جائے گی۔

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ اگر بالی ووڈ کی معروف شخصیت جاوید اختر نے سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے کارکنان سے معذرت نہیں کی تو جس فلم میں بھی ان کا کوئی کام ہے اس کی ملک بھر میں کہیں بھی اسکریننگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بالی وڈ کے نمغہ نگار اور معروف اردو شاعر جاوید اختر نے مقامی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھارت کی ان سخت گیر ہندو تنظیموں کا موازنہ طالبان سے کیا تھا جو بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتے ہیں۔ شیو سینا نے بھی اس حوالے سے جاوید اختر پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

بی جی جے کا کیا کہنا ہے؟

ریاست مہار راشٹر کی مقننہ کے ایک رکن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان رام قدم نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ’’جاوید اختر کا یہ بیان شرمناک ہی نہیں بلکہ تکلیف دہ بھی ہے اور سنگھ (آر ایس ایس) اور وشوا ہندو پریشد کے کروڑوں کارکنان کے ساتھ ہی دنیا بھر کے ان کروڑوں لوگوں کی توہین ہے جو اس نظریہ کے پیروکار ہیں۔‘‘

بھارت کی سخت گیر ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس) بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے کی مہم چلاتی ہے جو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی مربی تنظیم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت حکمراں جماعت کے تقریبا تمام رہنماؤں کی تربیت آر ایس ایس نے ہی کی ہے اور بی جے پی  آر ایس ایس پر نکتہ چینی برداشت نہیں کرتی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس آر ایس ایس کے نظریات کے حامل لوگ ہی اس وقت بھارت پر حکمرانی کر رہے ہیں اور اگر وہ طالبان جیسے ہوتے تو انہیں اس طرح کا بیان دینے کا موقع نہیں مل پاتا۔ ’’یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جاوید اختر کا بیان کتنا کھوکھلا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’جب تک وہ ہاتھ جوڑ کر آر ایس ایس کے ان کارکنان سے معافی نہیں مانگتے جنہوں نے اپنی زندگی قوم کے لیے وقف کر رکھی ہے، اس وقت تک ہم ماں بھارتی کی اس سرزمین پر ان کی کسی بھی فلم کو چلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

پیر کے روز شیو سینا نے بھی اپنے ترجمان اخبار سامنا میں جاوید اختر کے اس بیان پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ اس طرح کا،’’موازنہ ہندو تہذیب و ثقافت کی توہین ہے۔‘‘ پارٹی نے آر ایس ایس کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو لوگ ہندو تنظیموں کا مقابلہ طالبان سے کر رہے ہیں انہیں اس بارے میں میں پہلے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

جاوید اختر نے کیا کہا تھا؟

بالی وڈ کی معرف شخصیت جاوید اختر اپنی آزاد خیالی کے لیے معروف ہیں اور قدامت پسند مذہبی خیالات پر عموماﹰ نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے طالبان پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان بھارتی مسلمانوں پر بھی تنقید کی تھی جو طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں طالبان کے حامی مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم انہوں نے کہا، ’’جیسے طالبان ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، یہاں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہندو راشٹر کی تمنّا رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ چاہے مسلمان ہوں، ہندو یا پھر مسیحی یا یہودی، ان سب کی ذہنیت ایک جیسی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’یقینا طالبان وحشی ہیں اور ان کے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ لیکن آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی حمایت کرنے والے بھی انہیں جیسے ہیں۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں جاوید اختر نے کہا کہ بھارت میں طالبان کی حمایت کرنے والا مسلمانوں کا طبقہ بہت چھوٹا ہے۔

 ان کا کہنا تھا، ’’جن بیشتر مسلمانوں سے میری بات ہوئی ہے ان کی اکثریت طالبان کی حمایت والے بیانات سے ششددر ہے۔ بھارت کی آج نوجوان مسلم  نسل اچھی تعلیم اور روزگار کی خواہش مند ہے۔ کچھ لوگ ہے جو اس طرح کی دقیانوسی سوچ رکھتے ہیں۔ تاہم یہ بہت کم ہیں اس لیے وہ جو کہتے ہیں کہنے دیجیے۔‘‘

ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی ایک لمبی بحٹ چھیڑ دی ہے جس میں اگر ایک طبقہ ان کا حامی ہے تو سخت گیر ہندو نظریات کے حامل گروپ ان پر آگ بگولا دکھائی دیتے ہیں۔

بھارت میں گزشتہ تقریبا سات برسوں سے سخت گیر ہندو نظریات کی حامل سیاسی جماعت بی جے پی کا اقتدار ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں ہی بھارت میں سیکولر نظام کے بجائے ایک ہندو مملکت کے قیام کے لیے کوشاں رہی ہیں۔

بی جے پی نے اپنے دور اقتدار کے دوران بعض ایسے قوانین منظور کیے ہیں کہ جس سے مسلم طبقے میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو تنظیموں کی جانب سے ہجومی تشدد ایک عام بات ہو گئی ہے جس پر کئی حلقے گہری تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔    

ویڈیو دیکھیے 05:17

فنکار تعلقات ميں بہتری کے ليے کردار ادا کر سکتے ہيں، جاويد شيخ

DW.COM