’ثالثی کی ضرورت نہيں، مودی کے مطابق صورتحال قابو ميں ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ثالثی کی ضرورت نہيں، مودی کے مطابق صورتحال قابو ميں ہے‘

امريکی صدر نے فرانس ميں بھارتی وزير اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ کشمير کے معاملے ميں مداخلت کی ضرورت نہيں اور انہيں اميد ہے کہ يہ مسئلہ پاکستان اور بھارت خود نمٹا ليں گے۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمير کے حل کے ليے انہيں ثالث کا کردار ادا کرنے کی ضرورت نہيں۔ انہوں نے يہ بيان فرانس کے شہر بيارٹس ميں جاری ترقی يافتہ ملکوں کے گروپ ’جی سيون‘ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزير اعظم نريندر مودی سے ملاقات کے بعد پير کو ديا۔ ٹرمپ کے بقول مودی نے انہيں مطلع کيا ہے کہ صورت حال قابو ميں ہے اور کسی قسم کی ثالثی کی ضرورت نہيں۔

واضح رہے کہ نئی دہلی حکومت کی جانب سے بھارتی زير انتظام کشمير کو فراہم خصوصی انتظامی حيثيت کے اس ماہ کے اوائل ميں خاتمے کے بعد، خطے ميں شديد کشيدگی پائی جاتی ہے۔ ايک طرف متنازعہ کشمير ميں مواصلاتی بندش اور متنازعہ اقدامات پر احتجاج جاری ہے، تو دوسری جانب پاکستان نے بھی اس اقدام کی شديد مخالفت جاری رکھی ہوئی ہے۔ پانچ اگست کو بھارتی اقدام کے بعد جب کشيدگی بڑھی تھی، تو امريکی صدر نے کشمير پر پاکستان اور بھارت کے درميان ثالثی کی پيشکش کی تھی، جسے بھارتی حکومت نے مسترد کر ديا تھا۔ 

آج بروز پير بيارٹس ميں ٹرمپ نے بتايا کہ انہوں نے کشمير کے موضوع پر مودی کے ساتھ تفصيلی گفتگو کی ہے۔ ان کے بقول يہ ايک پيچيدہ مسئلہ ہے، جس کے حل کے ليے وہ جو کچھ ہو سکتا ہے، کريں گے۔ 

قبل ازيں ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ہفتے انيس اگست کو پاکستان اور بھارت کی اعلٰی قيادت سے بذريعہ ٹيلی فون رابطہ کيا تھا، جس ميں انہوں نے مسئلہ کشمير کے پر امن حل پر زور ديا تھا۔ امریکی حکام مسئلہ کشمیر کے بارے میں تاہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ بھارت اور پاکستان کا باہمی مسئلہ ہے جسے ان دونوں ہمسائے ممالک کو خود ہی حل کرنا ہوگا۔

ع س / ک م، نيوز ايجنسياں