تیونس اور مصر اب بھی امریکی تسلط میں، ایمن الظواہری | حالات حاضرہ | DW | 28.02.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تیونس اور مصر اب بھی امریکی تسلط میں، ایمن الظواہری

القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ تیونس اور مصر میں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر رہا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

ایمن الظواہری کا تعلق بھی مصر سے ہے

ایمن الظواہری کا تعلق بھی مصر سے ہے

مصر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے ایک صوتی پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کی ہمدرد حکومتیں تیونس اور مصر میں اپنا تسلط قائم کر رہی ہیں۔

Entwicklung der Unruhen in Ägypten Flash-Galerie

البرادعی مغرب نواز ہیں، ایمن الظواہری

'دا سائٹ مانیٹرنگ سروس‘ کے مطابق الظواہری کا تیونس اور مصر میں بغاوتوں کے بعد اس حوالے سے یہ تیسرا پیغام ہے اور امکاناً یہ پیغام تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی اور مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے درمیانی وقفے میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کے سینئر ترین رہنما ایمن الظوہری نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوری کے وسط میں جب امریکہ کو اندازہ ہو گیا کہ زین العابدین بن علی تیونس میں ان کے لیے ایک بوجھ بن گئے ہیں تو امریکہ ان کی حمایت سے دستبردار ہو گیا۔ الظواہری کا کہنا ہے کہ تیونس کے معاملات اب بھی امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھوں میں ہیں۔

NO FLASH Ägypten Kairo Proteste

مصر اور تیونس میں عوامی مظاہروں نے حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا

القاعدہ کے مفرور رہنما کا کہنا ہے کہ محمد البرادعی کی صورت میں مصر میں ایک متبادل سیکیولر قیادت سامنے لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر میں اس عبوری حکومت کا مرکزی دفتر قاہرہ میں ہوگا، ویانا میں یا پھر نیو یارک میں، وہ یہ نہیں جانتے۔

'البرادعی بین الاقوامی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور اس کے مفادات کے نگہبان بھی،‘ الظواہری نے کہا۔ ’مگر مصر ہنوز عیسائیوں کے تسلط میں ہے اور وہ اسلام کے خلاف امریکی جنگ میں اس کے معاون کا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘

الظواہری نے مصراور تیونس کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امّت کو مغرب سے آزاد کرانے کی راہ طویل ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM