تین سالہ لڑکا سالگرہ کے دن اپنے ہی ہاتھوں گولی چلنے سے ہلاک | معاشرہ | DW | 27.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

تین سالہ لڑکا سالگرہ کے دن اپنے ہی ہاتھوں گولی چلنے سے ہلاک

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک تین سالہ لڑکا اپنی سالگرہ کے دن اپنے ہی ہاتھوں حادثاتی طور پر گولی چلنے سے ہلاک ہو گیا۔ اسے ایک لوڈڈ پستول سالگرہ کی پارٹی کے دوران گھر میں کھیلتے ہوئے ملا تھا۔ گولی اس کی سینے میں لگی تھی۔

اس سال کے دوران اب تک امریکا میں کم سن بچوں کے ہاتھوں غیر ارادی طور پر گولی چلنے کے کم از کم بھی 229 واقعات پیش آ چکے ہیں

اس سال کے دوران اب تک امریکا میں کم سن بچوں کے ہاتھوں غیر ارادی طور پر گولی چلنے کے کم از کم بھی 229 واقعات پیش آ چکے ہیں

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن سے منگل ستائیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں میں پولیس کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ سانحہ ہفتہ چوبیس اکتوبر کو ہیوسٹن سے 40 کلو میٹر شمال مشرق کی طرف واقع ایک چھوٹے سے شہر پورٹر میں پیش آیا۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک

پورٹر کا چھوٹا سا شہر مونٹگمری کاؤنٹی میں واقع ہے، جس کی پولیس نے بتایا کہ یہ لڑکا اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ اپنے سالگرہ کی پارٹی منا رہا تھا اور اس کے والدین نے گولی چلنے کی آواز اس وقت سنی، جس پارٹی میں شریک چند بالغ افراد ایک دوسرے کمرے میں تاش کھیل رہے تھے۔

کینیڈا میں شوٹنگ، درجن سے زائد افراد ہلاک

اس بچے کو گولی سینے میں لگی اور وہ بری طرح زخمی ہو گیا تھا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے بتایا کہ اس بچے کے ہاتھ میں ایک ایسا پستول لگ گیا تھا، جو برتھ ڈے پارٹی میں شریک ایک رشتہ دار کی جیب سے گر گیا تھا اور اسے پتا نہ چلا تھا۔

اس سال اب تک ستانوے بچے ہلاک

امریکا میں گن سیفٹی کے سلسلے میں آتشیں اسلحے سے متعلق محتاط رویوں کی ترویج کے لیے سرگرم ایک تنظیم 'ہر شہر گن سیفٹی کا حامی‘ نے بتایا کہ اس سال کے دوران اب تک امریکا میں کم سن بچوں کے ہاتھوں غیر ارادی طور پر گولی چلنے کے کم از کم بھی 229 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں تاحال 97 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی ریاست ورجینیا میں فائرنگ سے تیرہ افراد ہلاک

امریکا میں ہر تیسرا بالغ شہری کسی نہ کسی آتشیں ہتھیار کا مالک ہے۔ امریکی شہریوں کو اپنے پاس مہلک ہتھیار رکھنے کے حق کی ضمانت اس آئینی شق کے تحت دی گئی تھی، جو ملکی آئین میں دوسری ترمیم کہلاتی ہے۔

ٹیکساس امریکا کی ایسی ریاست ہے، جہاں عام شہریوں کے لیے اپنے پاس آتشیں ہتھیار رکھنے سے متعلق قوانین مقابلتاﹰ سب سے نرم ہیں۔

م م / ک م (اے ایف پی)

DW.COM