تین دہائیوں میں جمع کردہ سکے بینک نے چھ ماہ میں گنے | معاشرہ | DW | 17.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تین دہائیوں میں جمع کردہ سکے بینک نے چھ ماہ میں گنے

جرمنی میں ایک ٹرک ڈرائیور کئی دہائیوں تک سکے جمع کرتا رہا اور اس کے مرنے کے بعد یہ ’دولت‘ خاندان کو وراثت میں ملی۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیش آیا جب اہل خانہ ڈھائی ٹن وزنی یہ سکے کیش کرانے بینک پہنچے۔

شمالی جرمنی کے پبلک براڈکاسٹر این ڈی آر کے مطابق ساڑھے پانچ ہزار پاؤنڈ وزنی ان لاکھوں سکوں کی گنتی کرنے کے لیے وفاقی جرمن بینک یا ’ڈوئچے بنڈس بینک‘ نے ایک کلرک کو متعین کیا، جس نے مسلسل چھ ماہ تک ان سکوں کی گنتی کرتے ہوئے آخر کار یہ کام مکمل کر ہی لیا۔

جرمن جامعات میں غیریورپی طلبا کے لیے ٹیوشن فیس پر تنقید

جرمن سیاستدان کماتے کتنا ہیں؟

یہ سکے ایک جرمن ٹرک ڈرائیور نے اپنے اہل خانہ کے لیے وراثت میں چھوڑے تھے۔ اس شہری نے تیس برسوں کے دوران قریب بارہ لاکھ سکے جمع کیے، جنہیں سینکڑوں تھیلوں میں بھر کر گھر میں ہی ذخیرہ کیا گیا تھا۔

ان سکوں میں اکثریت سابق وفاقی جرمن کرنسی ڈوئچ مارک کے ایک اور دو سینٹ مالیت کے سکوں کی تھی۔ سن 2002 میں ڈوئچ مارک کی جگہ یورو نے لے لی تھی لیکن اس کرنسی کو کسی بھی وقت بینک میں واپس جمع کراتے ہوئے اس کے عوض یورو حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ عام طریقہ یہ ہے کہ عوام اپنی سہولت کی خاطر اگر چاہیں تو ڈوئچ مارک کے نوٹ یا سکے بذریعہ پوسٹ بھی وفاقی جرمن بینک کو بھجوا سکتے ہیں

لیکن اس برس مئی کے مہینے میں اس ٹرک ڈرائیور کے انتقال کے بعد اس کے اہل خانہ کی مجبوری یہ تھی کہ انہیں ملنے والی وراثت ڈھائی ٹن وزنی تھی، اور وہ اسے ایک ٹرک میں لاد کر ہی بینک تک پہنچا سکے تھے۔

مشین کے بس کی بات ہی نہ تھی

جرمنی کے بنڈس بینک کے ایک ترجمان نے پبلک براڈکاسٹر NDR کو بتایا کہ ان سکوں کو مشین کی مدد سے نہیں گنا جا سکتا تھا کیوں کہ ان میں سے کئی زنگ آلود تھے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اس لیے انہیں گننے کے لیے بینک کے عملے کے ایک اہلکار کو متعین کرنا پڑا۔ جرمن شہر اولڈن برگ میں ’ڈوئچے بنڈس بینک‘ کی اس شاخ میں سکوں کی گنتی کی یہ ذمہ داری وولف گانگ کیمیرائٹ نامی ایک کلرک کو سونپی گئی تھی، جس نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اپنے روز مرہ کے کام کے ساتھ ساتھ ہر روز ان سکوں کی گنتی کا کام بھی کیا۔

این ڈی آر سے گفتگو کرتے ہوئے کیمیرائٹ کا کہنا تھا، ’’میں نے ایک ایک سکہ اپنے ہاتھوں سے گنا، ایسا کام کرنے میں مجھے مزہ آتا ہے اس لیے میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔‘‘ اسے سکوں سے بھرا ہر بیگ گننے میں کم از کم بھی ایک گھنٹہ لگا۔

آخر کار یہ عمل رواں ہفتے مکمل ہو گیا اور اس جرمن ٹرک ڈرائیور کے اہل خانہ کو ڈھائی ٹن سکوں کا بدل مل گیا، جو آٹھ ہزار یورو بنا۔

کیا رضاکارانہ وطن واپسی پر ہر مہاجر کو 3000 یورو ملیں گے؟

فرانس میں ’مہاجرین کی مدد کی علامت‘ کو جرمانے کی سزا

DW.COM