تیندوے کی انتہائی نایاب نسل پاکستان میں | معاشرہ | DW | 21.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

تیندوے کی انتہائی نایاب نسل پاکستان میں

پاکستان میں تیندوے کی  بہت ہی نایاب نسل 'پرشین لیپرڈ‘ کے ایک جوڑے کو دیکھا گیا ہے۔ تیندوے کی یہ نسل بقا کے خطرے سے دوچار ہے۔

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے چیف کنزرویٹر شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ جوڑا چھ ماہ قبل رینجرز نے کوئٹہ کے قریب جنوب مغرب میں کوہ چلتن کے ہزار گنجی وائلڈ لائف پارک میں  دیکھا تھا۔

 بلوچ کا کہنا تھا کہ جوڑے دکھائی دینے کے بعد انہوں نے اپنے محکمے کے عملے کو دوربینیں اور کیمرے فراہم کیے تاکہ وہ ان چیتوں کی تصاویر لے سکیں 'اس ماہ ہمارا عملہ تصویریں لینے میں کامیاب‘ ہو گیا۔

پریشن لیپرڈ نسل ترکی، ایران، افغانستان میں پائے جانے والی نسل سے ملتی ہے۔ یہ انتہائی کمیاب نسل ہے اور اسے بقا کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس نسل کے صرف ایک ہزار جانور دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں۔ شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے، ''ہم اس نایاب نسل کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

پارک حکام کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں یہ انتہائی خوبصورت جانور دیکھے جا سکتے ہیں۔

بلوچ کے مطابق اس نسل کے تیندوے پہلی مرتبہ پاکستان میں دیکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں تیندوے کی ایک اور نایاب نسل 'سنو لیپرڈ‘ بھی پائے جاتے ہیں۔

ب ج، ش ح (اے ایف پی)