تیل کی عالمی تجارت، آبنائے ھرمز کی اہمیت | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کی عالمی تجارت، آبنائے ھرمز کی اہمیت

ایران یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کی تیل کی برآمدات پر مغربی ملکوں کی طرف سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ آبنائے ھرمز کو بند کر دے گا۔ یہ سمندری راستہ تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی تجارت کے لیے آبنائے ھرمز کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ پوری دنیا میں سمندری راستے سے تیل کی جتنی بھی تجارت ہوتی ہے، اس کا 40 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

آبنائے ھرمز خلیج کے اس سمندری راستے سے جڑی ہوئی ہے، جس کے ساحلوں پر تیل کی دولت سے مالا مال کئی عرب ریاستیں واقع ہیں۔ ان ملکوں میں بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان شامل ہیں۔

کئی مغربی ریاستیں اس بارے میں غور کر رہی ہیں کہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے تہران اور مغربی دنیا کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے باعث ایران کے خلاف اس کے تیل کی برآمد کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

اس بارے میں ایرانی نائب صدر محمد رضا رحیمی نے کل منگل کے روز کھل کر کہہ دیا تھا کہ اگر ایرانی تیل کی برآمد پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں، تو آبنائے ھرمز کے علاقے سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

آبنائے ھرمز اتنا تنگ سمندری راستہ ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی صرف 30 میل یا 50 کلومیٹر کے قریب ہے اور اس کی گہرائی بھی زیادہ سے زیادہ محض 200 فٹ یا 60 میٹر کے قریب بنتی ہے۔ اس سمندری راستے میں کئی بہت کم آباد لیکن ایسے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ہیں جن کی اسٹریٹیجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے ایران کی ملکیت ھرمز، قشم اور ہنگام کے بندر عباس نامی بندرگاہ سے کچھ دور واقع جزیرے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

آبنائے ھرمز کے بالکل سامنے جزیرہ نما عمان کا وہ علاقہ ہے، جس کے پیچھے سلطنت عمان کا باقی حصہ ہے اور جس سے ملحقہ ساحلی علاقے متحدہ عرب امارات کی ملکیت ہیں۔ اسی علاقے میں ابو موسیٰ سمیت تین ایسے جزیرے بھی ہیں جو انتہائی اہم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ملکیت کے حوالے سے متنازعہ بھی ہیں۔ ان جزیروں سے تمام خلیجی ریاستوں پر نگاہ رکھی جا سکتی ہے۔ ان ریاستوں میں متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، سعودی عرب، کویت، عراق اور ایران بھی شامل ہیں۔

سن 1971 میں ایران نے ان جزیروں پر اس وقت کنٹرول حاصل کر لیا تھا جب تہران میں مغربی دنیا کے حمایت یافتہ بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی۔ ایسا اس وقت ہوا تھا جب برطانیہ نے خلیج کے علاقوں میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو آزادی دیتے ہوئے وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلا لی تھیں۔ ان تین جزیروں میں سے ابو موسیٰ واحد جزیرہ ہے جہاں انسانی آبادی بھی ہے۔ ماضی میں اس جزیرے کو ایران اور شارجہ کے مشترکہ انتظام میں دے دیا گیا تھا اور اب شارجہ، متحدہ عرب امارات کا حصہ ہے۔

Flash-Galerie Japan Tanker Atom-U-Boot rammt japanischen Öltanker

متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ سن 1971 کے بعد سے ایران اس جزیرے تک رسائی کے تمام راستوں پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور تہران نے وہاں ایک ایئر پورٹ تعمیر کرنے کے علاوہ ایک فوجی اڈہ بھی قائم کر رکھا ہے۔ خلیج کے علاقے اور آبنائے ھرمز میں بحری کارروائیوں کا کنٹرول ایران کے پاسداران انقلاب نامی دستوں کے پاس ہے، جن کی حیثیت ایرانی حکومت کی نظریاتی فوج کی سی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سن 2009 کے آخر میں شائع ہونے والی امریکی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق کسی جنگ کی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران تیل کی دولت سے مالا مال اس پورے خطے کو بڑی کامیابی سے بند کر سکتا ہے۔

امریکہ نے خلیج کے وسیع تر علاقے میں اس لیے اپنے بحری جہاز متعین کر رکھے ہیں کہ اس سمندری راستے کے مسلسل کھلا رہنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایرانی بحریہ ان دنوں آبنائے ھرمز سے مشرق کی طرف بین الاقوامی سمندری علاقے میں اپنی مشقیں بھی کر رہی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

اشتہار