تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں کا اجلاس، تبتی مظاہرین کا احتجاج بھی | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں کا اجلاس، تبتی مظاہرین کا احتجاج بھی

دنیا کے تیزی سے اقتصادی ترقی کرتے ممالک کے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں ایک مشترکہ بینک کے قیام پر گفتگو کی جائے گی۔ دوسری جانب تبتی مظاہرین چینی صدر کی نئی دہلی آمد پر مظاہروں میں مصروف ہیں۔

تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں کے گروپ برکس (BRICS) کے اجلاس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ غیر مغربی ممالک کے اس بلاک کے سربراہان کا یہ چوتھا اجلاس ہے۔ اس گروپ کا مقصد باہمی روابط اور اتحاد کے ذریعے دنیا میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ہے۔

اس اجلاس میں کلیدی اہمیت برکس بینک کے قیام پر اتفاق رائے کو دی جا رہی ہے، کیونکہ اس ادارے کی قیام کی صورت میں یہ برکس ریاستوں کا پہلا مشترکہ ادارہ ہو گا۔ اس بینک کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو ترقیاتی شعبے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سرمایے کی فراہمی ہے۔

BRICS Gipfel Indien Neu Delhi

چینی صدر ہوجن تاؤ اس اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت میں

گو کہ فی الحال یہ منصوبہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اس میٹنگ میں برکس ممالک کے سربراہان کی کوشش ہو گی کہ کثیر الملکی ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے متوازی اس بینک کو لا کھڑا کرنے پر اصولی اتفاق رائے ہو جائے۔

برزیل کے وزیر تجارت Fernando Pimentel نے کہا ہے کہ یہ ادارہ برکس ممالک کے درمیان تجارت میں زبردست اضافے کے آلے کے طور پر کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی کے مرکز میں واقع ایک عالیشان ہوٹل میں ہونے والے اس اجلاس کے موقع پر ممکنہ طور پر ہزاروں تبتی مظاہرین چینی صدر ہوجن تاؤ کی شرکت کے خلاف احتجاج بھی کریں گے۔ اسی مناسبت سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ چینی صدر، جو سن 2006ء کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، ایک اچھے تاثر کے ساتھ واپس چین جائیں۔ پولیس نے بدھ کے روز نئی دہلی میں ہزاروں تبتی باشندوں کو منتشر کر دیا، جو آج کے برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر احتجاج کی غرض سے جمع ہوئے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

اشتہار