توہین مذہب: پاکستانی عدالت نے سزائے موت پانے والا ملزم بری کر دیا | حالات حاضرہ | DW | 07.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

توہین مذہب: پاکستانی عدالت نے سزائے موت پانے والا ملزم بری کر دیا

پاکستانی صوبہ پنجاب کی اعلیٰ ترین عدالت نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں ملزم کو سنائی گئی موت کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے رہا کر دیا۔ مسیحی عقیدے سے تعلق رکھنے والے ملزم کو سزائے موت ایک ماتحت عدالت نے سنائی تھی۔

پاکستان میں تقریباﹰ ایک درجن مسیحی شہریوں کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور وہ جیلوں میں اپنی اپیلوں پر فیصلوں کے منتظر ہیں

پاکستان میں تقریباﹰ ایک درجن مسیحی شہریوں کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور وہ جیلوں میں اپنی اپیلوں پر فیصلوں کے منتظر ہیں

صوبہ پنجاب کی اعلیٰ عدالت لاہور ہائی کورٹ نے ساون مسیح نامی ملزم کو توہین مذہب کے ایک مقدمے میں سنائی گئی موت کی سزا ختم کر دی۔ ملزم چھ برس سے بھی زائد عرصے سے جیل میں اپنی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل پر فیصلے کا منتظر تھا۔ اسے یہ سزا ایک ماتحت عدالت نے سنائی تھی۔

ایک مسیحی کو توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی تصدیق عدالت کے ترجمان سید مدثر حسین نے بھی کر دی۔ اس فیصلے کے حوالے سے مسیحی برادری کی ایک غیر حکومتی تنظیم کے سربراہ جوزف فرانسس نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ یہ ہائی کورٹ کا ایک بہادرانہ فیصلہ ہے۔

جوزف فرانسس کی تنظیم توہین مذہب کے مقدمات میں ملزم نامزد کیے جانے والے مسیحی باشندوں کو قانونی معاونت کے ساتھ ساتھ وکیل بھی مہیا کرتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:24

پاکستان میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت مسیحی خوف زدہ

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں سزا پانے والے ساون مسیح کی رہائی ایک بہادرانہ فیصلہ اس لیے بھی قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس نوعیت کا دوسرا مقدمہ ہے، جس میں مبینہ ملزم کے لیے سزائے موت منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے اس کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔

’توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو روکا جائے‘

ابھی یہ واضح نہیں کہ ساون مسیح کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں کب رہا کیا جائے گا۔ تاہم جوزف فرانسس نے بتایا کہ رہائی جلد ممکن ہے۔ ان کے مطابق ساون کے خاندان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اس باعث وہ رہائی کے بعد چھپ کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گا۔

ساون مسیح کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ سن 2013 میں دائر کیا گیا تھا۔ ساون مسیح پر عوامی سطح پر الزام لگائے جانے کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں ایک مشتعل ہجوم نے مسیحی برادری کی بستی جوزف کالونی میں ایک سوسے زائد مکانات جلا دیے تھے۔

امریکی شہری کے قتل میں معاونت کے الزام میں ایک شخص گرفتار

Paris Macron trifft Asia Bibi

پاکستانی مسیحی شہری آسیہ بی بی جیل سے رہائی اور پاکستان سے بیرون ملک روانگی کے بعد اس سال فروری میں پیرس میں فرانسیسی صدر ماکروں سے ملاقات کرتے ہوئے

پاکستان میں اس وقت تقریباﹰ ایک درجن مسیحی شہری توہین مذہب کے الزامات میں ماتحت عدالتوں سے سزائے موت کے حکم سن چکے ہیں۔ یہ سب ابھی تک جیلوں میں ہیں اور ان سزاؤں کے خلاف دائر کردہ اپنی اپیلوں پر فیصلوں کے منتظر ہیں۔

پشاور کی عدالت میں توہین مذہب کا ملزم قتل

قبل ازیں پاکستانی سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بھی اسی طرح کے ایک مقدمے میں رہا کر دیا تھا۔ وہ رہائی کے بعد اب اپنے خاندان کے ساتھ بیرون ملک آباد ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔

مختلف واقعات میں بے بنیاد الزامات کے تحت سخت گیر عقیدے کے حامل مشتعل گروہ کئی افراد کو ہلاک بھی کر چکے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی گورنر سلمان تاثیر کو بھی ان کے ایک محافظ پولیس اہلکار نے اس لیے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا کہ وہ آسیہ بی بی کو سنائی گئی سزا کے مخالف تھے۔

ع ح / م م (ڈی پی اے)

DW.COM