تونسہ شریف میں بم دھماکا، چھ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 14.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تونسہ شریف میں بم دھماکا، چھ افراد ہلاک

پاکستانی ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف میں ایک بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد مارے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس حملے میں حکمران پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سردار امجد فاروق کھوسہ کے سیاسی دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے مقامی پولیس اہلکار غلام مبشر میکن کے حوالے سے بتایا کہ اس پرتشدد کارروائی میں ممنوعہ سنی انتہا پسند گروہ لشکر جھنگوی ملوث ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اس دھماکے کی شدت کے بارے میں فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔ تاہم دھماکے کے بعد امجد کھوسہ کے سیاسی دفتر کو آگ لگ گئی، جس کے شعلے دور تک سے دیکھے جا سکتے تھے۔

یاد رہے کہ انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق کی ہلاکت کے بعد دوسری مرتبہ امجد کھوسہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ میکن نے بتایا کہ اس تازہ حملے میں امجد کھوسہ محفوظ رہے تاہم ان کے چھ رشتہ دار اور ساتھی مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق جب دھماکا ہوا تو اس وقت امجد کھوسہ کے سیاسی دفتر میں تقریباﹰ چالیس افراد موجود تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں زخمی ہونے والے چار افراد کی حالت نازک ہے۔ دھماکے کی جگہ کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی وہاں پہنچ چکا ہے۔

Malik Ishaq

انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق

عینی شاہدین نے بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیاستدان امجد کھوسہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی آواز دو کلو میٹر دور تک سنی گئی۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کے گورنر رفیق رجوانہ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ایم این اے امجد کھوسہ نے اس دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب مسلمانوں کا مقدس مہینہ محرم الحرام شروع ہونے والا ہے۔ حکام نے اس دوران سکیورٹی میں خصوصی اضافے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

اشتہار