تنظیمی اعتراف: صرف ایک کیتھولک مسیحی تنظیم کے 33 پادریوں کی 175 بچوں سے جنسی زیادتیاں | معاشرہ | DW | 22.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

تنظیمی اعتراف: صرف ایک کیتھولک مسیحی تنظیم کے 33 پادریوں کی 175 بچوں سے جنسی زیادتیاں

کلیسائے روم کی ایک مذہبی برادری کے اعتراف کے مطابق اس کے درجنوں پادری آٹھ عشروں سے بھی زیادہ عرصے تک تقریباﹰ پونے دو سو نابالغ بچوں سے جنسی زیادتیاں کرتے رہے۔ کم از کم ساٹھ بچوں سے جنسی زیادتیاں اس فرقے کے بانی نے کیں۔

کیتھولک مسیحیت کے مرکز ویٹیکن سے اتوار بائیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق کیتھولک چرچ کے پادریوں کی ایک برادری اب تک اس وجہ سے بہت بدنام اور بےعزت ہو چکی ہے کہ اس کے مذہبی ارکان شروع سے ہی بچوں سے جنسی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔

Legionäre Christi entschuldigen sich

'لیجنیئرز آف کرائسٹ‘ کا بانی اور کم از کم ساٹھ بچوں سے جنسی زیادتیوں کا مرتکب پادری ڈیگولاڈو

رومن کیتھولک چرچ کی یہ ذیلی تنظیم یا برادری Legionaries of Christ کہلاتی ہے اور اسے اس وقت بہت زیادہ بدنامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب یہ بات سامنے آئی کہ اس برادری کا تو بانی ہی بچوں سے جنسی زیادتیاں کرنے کا عادی تھا۔

اب اس کیتھولک برادری نے اپنے ایک بیان میں وہ تمام تفصیلات بتا دی ہیں، جو دراصل ویٹیکن کی طرف سے کی جانے والی داخلی چھان بین کا حصہ ہیں۔

کلیسائی برادری کا بانی ہی 'پیڈوفائل‘

اس کلیسائی تنظیم نے کہا ہے کہ اس کی بنیاد 1941ء میں رکھی گئی تھی اور اس کے بانی کے بارے میں طویل مدت بعد علم ہوا تھا کہ وہ بچوں سے جنسی زیادتیاں کرنے والا ایک شخص تھا۔ اس بیان کے مطابق گزشتہ تقریباﹰ 80 برسوں میں اس مذہبی برادری کے 33 پادریوں نے مجموعی طور پر 175 نابالغ بچوں کا جنسی استحصال کیا اور ان سے زیادتیاں کیں۔

اس مسیحی برادری کی طرف سے ویٹیکن کو داخلی تفتش کے عمل کے دوران دیے گئے بیان کے مطابق اس تنظیم کا بانی پادری مارسیال ماسیئل ڈیگولاڈو، جس کا انتقال ہو چکا ہے، بچوں سے اس حد تک جنسی زیادتیاں کرتا تھا، کہ کم از کم 60 نابالغ بچے تو صرف اس ایک پادری کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوئے۔

33 میں سے 27 ملزمان ابھی زندہ

'لیجنیئرز آف کرائسٹ‘ نامی اس کیتھولک مذہبی برادری نے بتایا ہے کہ اس برادری کے بچوں سے جنسی زیادتیاں کرنے والے 33 میں سے باقی ماندہ 32 پادریوں میں سے پانچ کا انتقال ہو چکا ہے، آٹھ پادریوں کے طور پر اپنی کلیسائی ذمے داریاں ترک کر چکے ہیں، ایک نے تو اس مسیحی فرقے کو ہی خیرباد کہہ دیا ہے جبکہ باقی ماندہ اٹھارہ پادری آج بھی اس کلیسائی برادری کے ارکان ہیں۔

اس کمیونٹی کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں سے جنسی زیادتیوں کے مرتکب جو اٹھارہ پادری ابھی تک اس 'لیجن‘ کا حصہ ہیں، ان میں سے چودہ ایسے ہیں، جن کو دانستہ طور پر عوامی نوعیت کی کوئی کلیسائی ذمے داریاں نہیں سونپی گئیں جبکہ باقی چار کے تو نابالغ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطوں پر بھی پابندی عائد ہے۔

فرقے کے بانی کا انتہائی داغدار ریکارڈ

'لیجنیئرز آف کرائسٹ نامی کیتھولک کمیونٹی کی بنیاد 1941ء میں جس پادری ماسیئل نے رکھی تھی، اس کا تعلق پیدائشی طور پر میکسیکو سے تھا۔ اس کا 2008ء میں 87 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس پادری کے بارے میں یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ وہ نہ صرف بچوں سے جنسی زیادتی اور ان کا استحصال کرنے والا ایک 'پیڈوفائل‘ تھا بلکہ وہ دو مختلف خواتین کے بطنوں سے تین بچوں کی پیدائش کی وجہ بھی بنا تھا۔

پادری ماسیئل کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے اخلاقی طور پر انتہائی قابل اعتراض رویے کے بارے میں الزامات تو عوامی سطح پر 1990ء کی دہائی کے وسط سے ہی گردش کرتے رہے تھے تاہم ویٹیکن کے اعلیٰ حک‍ام نے 2006ء تک ایسے الزامات کا کبھی کوئی نوٹس ہی نہیں لیا تھا۔

پوپ جان پال دوئم کا 'قریبی دوست‘

 جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے ویٹیکن سے لکھا ہے کہ کلیسائے روم کی طرف سے پادری ماسیئل کے خلاف کارروائی میں بےتحاشا تاخیر کو اس بات سے جوڑا جاتا ہے کہ وہ آنجہانی پوپ جان پال دوئم کا ایک قریبی دوست بھی تھا۔

پھر جب 2005ء میں پوپ بینیڈکٹ نے کلیسائے روم کی سربراہی سنبھالی، تو تب پادری ڈیگو لاڈو کو حکم دیا گیا کہ وہ عوامی زندگی سے پیچھے ہٹتے ہوئے 'عبادت کریں اور اپنے گناہوں پر پچھتاوے‘ کی زندگی گزاریں۔ ڈیگولاڈو کو کوئی سزا تب بھی نہیں دی گئی تھی۔

م م / ش ح (ڈی پی اے، کے این اے)

ویڈیو دیکھیے 01:16

جرمنی میں ہزاروں بچے پادریوں کی ہوس کا شکار 

DW.COM