تمام کوششوں کے باوجود ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی وسعت جاری | حالات حاضرہ | DW | 18.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تمام کوششوں کے باوجود ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی وسعت جاری

امریکا کے انسداد دہشت گری کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ، شام سے بے دخل کردیے جانے اور اپنے رہنماوں کی ہلاکتوں کے باوجود، تقریباً 20 ذیلی تنظیموں کے ساتھ دنیا بھر میں مسلسل پاوں پھیلا رہا ہے۔

یو ایس نیشنل کاونٹر ٹیرارزم سینٹر کے ڈائریکٹر کرسٹوفر ملر کا کہنا ہے کہ اس انتہاپسند گروپ نے پچھلے چھ برسوں کے دوران یہ ثابت کردیا ہے کہ ”وہ اپنے درمیانی سطح کے عمردراز وفادار کمانڈروں، کافی وسیع خفیہ نیٹ ورک اور انسداد دہشت گردی کے دباو کو اپنے حق میں موڑ دینے کی خوبیوں کی وجہ سے انتہائی نقصان سے دوچار ہونے کے باوجود دوبارہ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔"

کرسٹوفر ملر نے جمعرات کے روز امریکی کانگریس کی داخلی سلامتی کمیٹی کو بتایا کہ اکتوبر 2019 میں اسلامک اسٹیٹ کے رہنما ابو بکر بغداد ی اور متعدد دیگر اہم افراد کی ہلاکت کے بعد سے اس شدت پسند تنظیم کے نئے رہنما محمد سعید عبدالرحمان المولا، دور دراز علاقوں میں موجود اپنی ذیلی تنظیموں کو ہدایت دینے اور نئے حملوں کے لیے حوصلہ افزائی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

جمعرات کے روز ہی اسلامک اسٹیٹ نے نائیجر میں 9 اگست کو چھ فرانسیسی امدادی کارکنوں اور ان کے دو مقامی گائیڈ کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ملر کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ ایک تسلسل کے ساتھ قتل اور مورٹار اور آئی ای ڈی بموں کے حملے کررہا ہے۔ ان میں مئی میں کیا گیا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں درجنو ں عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

امریکی انسداد دہشت گردی قومی مرکز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسند گروپ حملوں میں اپنی کامیابیوں کی ویڈیوز کو پروپیگنڈا کے لیے جاری کرتا رہتا ہے تاکہ یہ ثابت کرسکے کہ گزشتہ برس شام اور عراق میں زبردست شکست کے باوجود جہادی اب بھی منظم اور سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس شدت پسند گروپ نے اب شمال مشرقی شام کے حراستی کیمپوں میں قید اسلامک اسٹیٹ کے ہزاروں کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو آزاد کر انے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے، کیوں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اب تک کوئی مربوط بین الاقوامی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

ملر کا کہنا تھا کہ شام اور عراق کے باہر اسلامک اسٹیٹ کی تقریباً 20 شاخیں اور نیٹ ورکس ہیں۔  ان کی سرگرمیوں کے نتائج ملے جلے ہیں تاہم یہ افریقہ میں سب سے زیادہ مضبوط ہے، جس کا ثبوت نائیجر حملہ ہے۔

ملر نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ مغربی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم موثر انسداد دہشت گردی اقدامات کی وجہ سے اسے ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

شام اور عراق کے باہر اسلامک اسٹیٹ کی تقریباً 20 شاخیں اور نیٹ ورکس ہیں۔ 

شام اور عراق کے باہر اسلامک اسٹیٹ کی تقریباً 20 شاخیں اور نیٹ ورکس ہیں۔ 

ملر کا کہنا تھا کہ القاعدہ، جس نے 11ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملے کیے تھے، اپنے رہنماوں اور اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد کمزور پڑ گیا ہے تاہم و ہ اب بھی ایک ممکنہ خطرہ ہے۔  یہ گروپ امریکا اور یورپ پر حملہ کرنے کی کوشش میں ہے اور سعودی فضائیہ کے ایک زیر تربیت فوجی کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش اسی کا حصہ تھا، جس میں دسمبر 2019 میں فلوریڈا کے پینساکولا امریکی فوجی اڈے پر تین سیلرز کو ہلاک کردیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے ماہر کرسٹوفر ملر کے مطابق القاعدہ سے وابستہ تنظیمیں یمن اور افریقہ میں ہلاکت خیز حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم بھارت اور پاکستان میں موجود اس کے ذیلی گروپ واضح طورپر کمزور پڑ چکے ہیں۔  جبکہ افغانستان میں اس کے جنگجووں کی تعداد چند درجن تک محدود ہوگئی ہے اور وہ بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ج ا /  ص ز  (اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

DW.COM