’ترے بیان میں قاصد کچھ اشتباہ نہیں‘: پھر بھی خاتون گرفتار | معاشرہ | DW | 05.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’ترے بیان میں قاصد کچھ اشتباہ نہیں‘: پھر بھی خاتون گرفتار

جرمنی میں ایک پوسٹل سروس کی ایک ایسی خاتون کارکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے نو ماہ کے عرصے میں ایک ہزار سے زائد خطوں اور پارسلوں میں سے پندرہ ہزار یورو سے زائد مالیت کی قیمتی اشیاء اور نقد رقوم چرا لی تھیں۔

جرمن صوبے ہیسے کے شہر ’باڈ ہَیرس فَیلڈ‘ سے جمعرات پانچ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ خاتون ایک کوریئر سروس کی ملازمہ ہے، جس کا کام مقامی صارفین کو ان کے نام آنے والے وہ خطوط اور پیکٹ پہنچانا تھا، جو دراصل کسی بھی ڈاکیے کے پاس ’امانت‘ ہوتے ہیں۔

اس خاتون نے، جس کی عمر 33 برس ہے اور جو ’ہَیرس فَیلڈ روٹن بُرگ‘ کے نیم دیہی علاقے کی رہنے والی ہے، نہ صرف اپنے پاس موجود صارفین کی ’امانتوں میں خیانت‘ کی بلکہ وہ کم از کم بھی نو ماہ تک ایسا کرتی رہی۔ اس دوران اس پوسٹل ورکر نے ایک ہزار سے زائد خطوں اور پیکٹوں میں سے 15 ہزار یورو سے زائد مالیت کی قیمتی اشیاء اور نقدی چوری کیں۔

ایسے ہر واقعے کے بعد شکایت کرنے پر چوری شدہ خطوط اور پیکٹ بھیجنے یا وصول کرنے والوں کو یہ بتایا گیا کہ ان کی پوسٹ ’کہیں راستے ہی میں گم‘ ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس بارے میں تفتیش اس وقت شروع کی گئی جب متعلقہ کوریئر سروس کو ملنے والی شکایتیں بہت زیادہ ہو گئیں۔ اس پوسٹل سروس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

ابتدائی چھان بین کے بعد مقامی پولیس کے تفتیشی ماہرین کو یہ پتہ بھی چلا کہ یہ خاتون مختلف پیکٹوں سے چرائی گئی قیمتی اشیاء، مثلاﹰ لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، موبائل فون اور گفٹ ووچرز وغیرہ نقد ادائیگی کے عوض بیچنے کے لیے علاقے کی ایک ہی دکان پر جاتی تھی۔

اس پر چند بنیادی شواہد جمع کرنے اور ایک عدالت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد جب اس خاتون کے گھر کی تلاشی لی گئی، تو وہاں سے درجنوں کی تعداد میں ایسے مزید شواہد بھی مل گئے کہ ’راستے میں کہیں گم ہو جانے والے‘ خطوط اور پارسل اسی ڈاکیا خاتون کے گھر پہنچ جاتے تھے۔

شروع میں ملزمہ نے اپنے خلاف الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا مگر بعد میں اس نے اعتراف کر لیا کہ وہ خطوں اور پیکٹوں میں سے رقوم اور قیمتی اشیاء گزشتہ برس موسم خزاں سے چوری کرتی آئی تھی۔ پولیس نے ملزمہ کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

م م / ا ا / ڈی پی اے

DW.COM