ترک وطن گھرانوں میں جرمن سب سے زیادہ بولے جانی والی زبان | معاشرہ | DW | 11.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ترک وطن گھرانوں میں جرمن سب سے زیادہ بولے جانی والی زبان

جرمنی میں ایسے 63 فیصد گھرانوں، جہاں کم از کم ایک شخص ترک وطن کا پس منظر رکھتا ہے، میں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان جرمن ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق  ترک وطن پس منظر رکھنے والے گھرانوں میں جرمن زبان کے بعد سب سے زیادہ بولے جانی والی ترک زبان  تھی، اس کے بعد روسی، پھر پولش اور تین فیصد گھرانوں میں عربی زبان بولی جاتی ہے۔ دفتر برائے شماریات کے مطابق کسی گھر میں کیا زبان بولی جاتی ہے اس کا زیادہ تر انحصار وہاں رہنے والے تارکین وطن کی تعداد پر ہے۔ اگر ایک گھر میں صرف ایک شخص تارک وطن ہے تو  95 کیسز میں وہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب جرمنی میں زبان اور خاص طور پر ترک وطن کا پس منظر رکھنے والے بچوں کے لیے اسکولوں کے نصاب اور زبان زیر بحث ہے۔ گزشتہ ماہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے ایک اعلیٰ رکن کارسٹن لنیمن  نے تجویز دی تھی کہ اگر بچے جرمن زبان بولنا اور لکھنا نہیں جانتے تو انہیں اسکول میں داخلہ نہ دیا جائے۔ اس بیان پر جرمن میڈیا میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور سی ڈی یو کے کئی اراکین نے اس بیان کی مذمت کی۔ لیکن کئی جائزوں سے پتا چلا کہ جرمن شہریوں کی بڑی تعداد کارسٹسن لنیمن کے بیان سے متفق ہے۔  

ب ج، ع ا

DW.COM