ترک شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری پر فوری بریک، یورپی یونین | مہاجرین کا بحران | DW | 20.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری پر فوری بریک، یورپی یونین

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے جمعے کے روز ترک باشندوں کے لیے شینگن ممالک کے ویزا فری سفر سے متعلق منصوبے کو ’ہنگامی بریک‘ لگانے کا اعلان کر دیا۔ کہا گیا ہے کہ ترکی کو اس سے قبل اہم یورپی ضوابط تسلیم کرنا ہوں گے۔

برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ اگر ترک یا دیگر اقوام نے اہم یورپی ضوابط کی خلاف ورزی کی تو یونین کے رکن ملکوں کو ایسے ممالک کے شہریوں کی یونین میں ویزا فری انٹری کو روکنے کی اجازت ہو گی۔

یونین کے وزارئے داخلہ کے اس اتفاق رائے میں اس بلاک میں شامل ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ترک شہریوں کی اکثریت نے یورپی یونین میں مقررہ مدت سے زیادہ عرصے کے لیے قیام کیا، یا ترک باشندوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، تو ترک باشندوں کے لیے ویزا فری انٹری فوری طور پر روکی جا سکے گی۔

یہ بات اہم ہے کہ مہاجرین کے بحران کے تناظر میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ترک شہریوں کے لیے شینگن ممالک کے ویزا فری سفر کو ایک بنیادی شرط کی حیثیت حاصل رہی ہے اور انقرہ حکومت متعدد مواقع پر کہہ چکی ہے کہ اگر معاہدے کی اس شق پر عمل نہ کیا گیا، تو ترکی اس معاہدے سے الگ ہو جائے گا۔

Griechenland Flüchtlinge auf der Insel Lesbos

ترکی اپنے ہاں سے مہاجرین کی یونان آمد روک رہا ہے

 مارچ میں طے پانے والے اس معاہدے میں ترکی سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے والے مہاجرین کو روکے اور ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے عوض ترکی کو اربوں یورو امداد کے علاوہ اس کے شہریوں کے لیے شینگن ممالک کے سفر کے لیے ویزا کے حصول کی پابندی ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس معاملے پر متعدد یورپی ممالک کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔

یورپی یونین کے موجود ششماہی کے لیے صدر ملک ہالینڈ کے وزیر برائے مہاجرت کلاس ڈیجکوف کے مطابق، ’’مجھے خوشی ہے کہ آج ہم اس سلسلے میں ایک میکینزم پر متفق ہو گئے ہیں، جس سے ترک باشندوں کی دی جانے والی ان مراعات کی خلاف ورزیوں پر فوری ایکشن لیا جا سکے گا۔‘‘

اگر یہ میکینزم یورپی پارلیمان سے منظوری پا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں کسی بھی ملک بشمول ترکی کے لیے مخصوص حالات میں یورپی یونین کے ویزا فری سفر کی سہولت معطل کی جا سکے گی۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترک شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کی سہولت صرف اسی صورت میں مہیا کی جا سکتی ہے، جب ترکی یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی 72 نکاتی فہرست کے تمام نکات پر عمل درآمد کرے۔ اس فہرست میں بائیومیٹرک پاسپورٹوں سے لے کر انسانی حقوق کے احترام تک جیسی شرائط شامل ہیں۔