ترک جمہوریت میں ’جمہوریت‘ کے خلاف کارروائی | حالات حاضرہ | DW | 31.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک جمہوریت میں ’جمہوریت‘ کے خلاف کارروائی

ترک پولیس نے حزب اختلاف کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اخبار ’’جمہوریت‘‘ کے مدیر اعلٰی مراد سبونجو کو گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس روزنامے سے منسلک کئی دیگر افراد بھی اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

ترک ’سی این این‘ کے مطابق انقرہ حکام کی جانب سے روزنامہ ’جمہوریت‘ کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں اور اعلی عہدوں پر فائز افراد کی گرفتاری کے لیے تیرہ وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ اس موقع پر مواد سبونجو کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کے چیئر مین آکن اطالی اور کالم نگار گورے اوز کے دفتروں کی تلاشی بھی لی گئی اور اطلاعات کے مطابق ان دونوں افراد کے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ اوز کو پولیس حراست میں لینے میں کامیاب ہو گئی جبکہ ذرائع نے بتایا ہے کہ اطالی شاید بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس اخبار کے خاکہ نگار موسی کارت کے گھر اور دفتر کی بھی تلاشی کے بعد اُس کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ 

Screenshot YouTube Murat Sabuncu

سبونجو کی گرفتاری ممکنہ طور پر رواں برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد جاری حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہو سکتی ہے

جمہوریت کو ترکی میں آزادانہ صحافت کا علم بردار قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سبونجو کی گرفتاری ممکنہ طور پر رواں برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد جاری حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر جمہوریت نے اپنے مدیراعلیٰ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل حکومت ایک کرد اخبار اور ایک خبر رساں ادارے کو بند کر چکی ہے اور اخبار جمہوریت کے خلاف کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق، ’’ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے پابندیاں انتہائی سخت کر دی گئی ہیں۔ ریاست اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے، جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

ترکی کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ جمہوریت فاؤنڈیشن پر گولن تحریک اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جمہوریت اخبار بھی اسی فاؤنڈیشن کی ملکیت ہے۔