ترکی نارڈک ملکوں کی نیٹو میں شمولیت سے فکرمند کیوں ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 18.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی نارڈک ملکوں کی نیٹو میں شمولیت سے فکرمند کیوں ہے؟

سویڈن اور فن لینڈ مغربی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ترک صدر نے ان کی شمولیت کو روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ترکی ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت سے فکر مند کیوں ہے؟

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ نارڈک ممالک کرد انتہا پسندوں کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اس بنیاد پر ان کی مغربی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی مخالفت کریں گے۔ ان کے مطابق ان ریاستوں کی شمولیت سے ان کے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کا نیٹو میں شامل ہونے کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

ترکی نے فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش کو روکنے کی دھمکی دی

نیٹو کی رکن ریاستوں کی تعداد تیس ہے اور سبھی کی حمایت سے ہی کسی نئے رکن کی اتحاد میں شمولیت ممکن ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں ترکی کی حمایت خاصی اہم ہے۔

Flagge der NATO sowie von Schweden und Finnland

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں سویڈن اور فن لینڈ کی شمولیت یقنی ہو گئی ہے

ترکی کا مسئلہ

ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں دوسری بڑی فوج کا حامل ملک ہے اور یہ ملک اتحاد میں توسیع کا ہمیشہ حامی رہا ہے۔ انقرہ کے مطابق نیٹو  کی اوپن پالیسی یقینی طور پر یورپی سلامتی کی مزید تقویت کا باعث بن سکتی ہے۔ ترکی نے یوکرین اور جورجیا کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کی تھی۔

ترک صدر ایردوآن کا فن لینڈ اور سویڈن کی شمولیت پر یہ اعتراض ہے کہ یہ ممالک کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سویڈن زیادہ بڑا حامی ہے اور فن لینڈ کی حمایت سویڈن جیسی نہیں ہے۔ اسی طرح ایردوآن حکومت کا خیال ہے کہ سویڈن کے ساتھ فن لینڈ امریکا مقیم مبلغ فتح اللہ گُولن کے حامیوں اور انتہا پسند بائیں بازو کی سیاسی جماعت DHKP-C کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

بہت سارے جلاوطن کرد کئی دہائیوں سے اس وقت سویڈن میں مقیم ہیں۔ اب فتح اللہ گولن کے حامیوں کو بھی سویڈن میں پناہ ملنی شروع ہو گئی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ نے ایسے تینتیس افراد کو انقرہ حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو ترکی میں مطلوب افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ترکی کو یورپی یونین سے اسلحے کی کم فراہمی پر بھی ناراضی لاحق ہے۔ ایردوآن کے مطابق وہ یونان کو نیٹو میں شمولیت پر رضامندی جیسی غلطی دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔

فن لينڈ کا نيٹو ميں شوليت کا فيصلہ، روس کا سخت رد عمل

رضامندی کی صورت میں ترکی کو کیا مل سکتا ہے

ترکی سویڈن اور فن لینڈ کی شمولیت پر کسی کمپرومائز کی تلاش میں ہے اور اس میں سب سے اہم کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک اہم مطالبہ ہو سکتا ہے اور اس کو تسلیم کرنے کی صورت میں ترکی اپنی رضامند ہو سکتا ہے۔

Schweden Stockholm | Besuch Präsident Finnland Niinistö | mit König Carl XVI. Gustaf

فن لینڈ کے صدر نینیسٹو سترہ مئی کو سویڈن پہنچنے پر وہاں کے بادشاہ کارل گستاف کے ہمراہ

اس کے علاوہ ترکی کی ایک اور درد سری شام میں سرگرم پیپلز پروٹیکشن یونٹ یا وائی پی جی (YPG) ہے اور یہ مغرب کا اتحادی عسکری گروپ ہے۔ اس نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کامیاب عسکری مہمات مکمل کی تھیں۔ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کا ایک بازو قرار دیتا ہے۔

ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ ترک صدر سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے رضامندی کے اظہار میں یورپی اقوام کے علاوہ امریکا سے بھی بعض رعایتیں طلب کر سکتے ہیں۔ ان میں ایک ترکی کا ایف پینتیس جنگی طیاروں کی پروڈکشن پراجیکٹ میں واپسی بھی ہو سکتی ہے۔ امریکا نے ترکی کی جانب سے روسی میزائل نظام ایس فور ہنڈرڈ خریدنے کے بعد ایف پینتیس جنگی طیاروں کے پراجیکٹ میں سے ترکی کو فارغ کر دیا تھا۔ ترکی ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا ایک نیا دستہ بھی خریدنے کی خواہش رکھتا ہے۔

سویڈن اور فن لینڈ بھی اب ’نیوٹرل‘ نہیں

ترکی کی ایک اور خواہش اس غیرسرکاری پابندی کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے جس کے تحت یوری یونین نے ترکی کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسی طرح شامی مہاجرین کی مد میں یونین سے امدادی رقم میں اضافہ کی بھی طلب بھی ہو سکتی ہے۔

ع ح/ ع ا (اے پی)