ترکی میں متحدہ عرب امارات کے دو مشتبہ جاسوس گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی میں متحدہ عرب امارات کے دو مشتبہ جاسوس گرفتار

ترکی میں حکام نے متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرنے کے شبے میں دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان مشتبہ اماراتی جاسوسوں سے جمال خاشقجی قتل سے ممکنہ تعلق کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ترک حکام نے دو اماراتی شہریوں کو متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق دونوں افراد نے متحدہ عرب امارات کے لیے ترکی میں مقیم عرب تارکین وطن اور طالب علموں کی جاسوسی کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

انقرہ میں حکام نے گرفتار کیے گئے دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم ایک ترک اخبار کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے ترک خفیہ ادارے ان دونوں اماراتی شہریوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق ترک ادارے ان دونوں افراد سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے سے ممکنہ روابط کے بارے میں بھی تفتیش کر رہے ہیں۔

ترکی کے سکیورٹی نے یہ بھی بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے دو افراد میں سے ایک مشتبہ اماراتی جاسوس گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں ترکی پہنچا تھا۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو بھی دو اکتوبر کے روز استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ایک اعلیٰ ترک اہلکار نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’ہم اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کی ترکی آمد کا تعلق جمال خاشقجی کے قتل سے ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ترکی میں مقیم عربوں اور سیاسی مخالفین کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘‘

اطلاعات کے مطابق ان دونوں مبینہ اماراتی جاسوسوں کو پیر  پندرہ اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہیں گرفتار کیے جانے کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی، جب جمعہ انیس اپریل کی شام عدالت میں پیش کیا گیا۔ ترکی کی انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق عدالت نے دونوں افراد کو بین الاقوامی، سیاسی اور فوجی جاسوسی کے الزامات کے تحت تحویل میں رکھنے کا فیصلہ سنایا۔

روئٹرز نے اس خبر کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا موقف جاننے کے لیے رابطے کی کوششیں کیں، تاہم اماراتی وزارت خارجہ کا کوئی اہلکار دستیاب نہ ہو پایا۔ ترک وزارت داخلہ نے بھی اس معاملے پر کوئی رائے دینے سے انکار کر دیا۔

ش ح / م م (اے ایف پی، روئٹرز، اے پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات