ترکی میں قید جرمن صحافی کی رہائی کا عدالتی حکم | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں قید جرمن صحافی کی رہائی کا عدالتی حکم

ترکی کی ایک عدالت نے جیل میں قید جرمن خاتون صحافی میزالے تولو اور پانچ دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں بائیں بازو کے ایک گروہ کا رکن ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تولو پر ’مارکسسٹ لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی‘ کا رکن ہونے کا الزام ہے۔ اس گروہ پر ترکی میں پابندی عائد ہے اور ترک حکومت نے اسے دہشت گرد گروہ کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ترکی میں جرمن صحافی کی حراست برلن اور انقرہ کے درمیان تناؤ کا باعث بنی رہی ہے۔

جرمن صحافی تولو کی وکیل کیدر ٹونک نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،’’ تولو کو جوڈیشل کنٹرول  کے تحت رہائی کا حکم سنایا گیا ہے۔ ‘‘ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تولو رہائی حاصل کرنے کے بعد بھی ہر ہفتے انتطامیہ کو رپورٹ کریں گی اور انہیں ترکی سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس عدالتی حکم پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا اڈےباہر کا کہنا تھا،’’ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، حتیٰ کہ تولو کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔‘‘ تولو کا کیس ان مختلف متنازعہ معاملات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں  نیٹو اتحادی ممالک ترکی اور جرمنی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

Meşale Tolu (privat)

اس وقت بھی آٹھ جرمن شہری ترکی میں زیر حراست ہیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی تولو کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ چانسلر میرکل کا کہنا ہے،’’  ایک حوالے سے سے یہ اچھی خبر ہے کہ تولو کو رہائی مل گئی ہے لیکن یہ مکمل اچھی خبر نہیں ہے کیوں کہ وہ ترکی سے باہر نہیں جا سکتی اور اب بھی اس کے خلاف کیس جاری ہے۔‘‘

ایردوآن ترکی کو ’فاشزم‘ کی جانب لے جا رہے ہیں، یوچیل

ترکی میں مزید دو جرمن شہری گرفتار

تولو ای ٹی ایچ اے نامی نیوز ایجنسی میں بطور صحافی اور مترجم کام کرتی تھی۔ تولو نے استنبول کی عدالت کو بتایا  کہ اسے ترکی میں آزادی رائے کے اظہار  کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں تولو اپنے تین سال کے بیٹے کے ساتھ جیل میں قید رہی۔ اس کا شوہر سوات کورلو کو بھی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اسے نومبر میں رہائی مل گئی تھی۔

اس وقت بھی آٹھ جرمن شہری ترکی میں زیر حراست ہیں۔ ان میں جرمن اخبار ’ڈی ویلٹ‘ کے صحافی ڈینز یوچیل بھی شامل ہیں۔

DW.COM