ترکی میں ایک اور بڑا بم حملہ: چھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں ایک اور بڑا بم حملہ: چھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی

جنوب مشرقی ترکی میں مشتبہ کرد باغیوں کی طرف سے کیے گئے ایک کار بم حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ دو روز قبل استنبول میں داعش کے ایک خود کش بم حملے میں بھی دس جرمن سیاح مارے گئے تھے۔

Türkei Autobombenanschlag auf eine Polizeiwache in Diyarbakir

حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن اور سکیورٹی فورسز کے ایک رہائشی کمپلیکس پر راکٹ بھی فائر کیے

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی استنبول سے جمعرات چودہ جنوری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق آج کیا جانے والا کار بم حملہ صوبے دیار باقر میں کیا گیا۔ صوبائی گورنر کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس حملے میں کرد باغیوں کی ممنوعہ تنظیم کردستان ورکرز پارٹی PKK کے عسکریت پسندوں نے چنار کے قصبے میں پہلے ایک کار بم دھماکا کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہو گئے۔

اس بم حملے کے فوری بعد مسلح باغیوں نے اپنے ہدف کے علاوہ قریب ہی واقع ایک پولیس اسٹیشن اور اس سے ملحقہ ایک رہائشی کمپلیکس پر راکٹ فائر کیے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ بھی شروع کر دی۔ اس رہائشی کمپلیکس میں ترک پولیس اہلکار اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس کارروائی میں پولیس اسٹیشن کی عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی جب کہ رہائشی کمپلیکس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اسی دوران رہائشی کمپلیکس کا ایک حصہ منہدم بھی ہو گیا اور تین افراد ہلاک اور 30 کے قریب زخمی ہو گئے۔

ترک نیوز ایجنسی دوگان نے بتایا ہے کہ دیا باقر میں چنار کے قصبے میں کیے گئے آج کے کار بم دھماکے، راکٹوں سے کیے گئے حملے اور خود کار ہتھیاروں سی کی جانے والی فائرنگ میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے۔ مرنے والے سب کے سب عام شہری بتائے گئے ہیں جبکہ زخمیوں میں عام شہری اور پولیس اہلکار دونوں شامل ہیں۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق چنار میں یہ خونریز حملہ مجموعی طور پر پون گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران سکیورٹی دستوں اور کرد عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ ترک سکیورٹی فورسز نے چنار کو جانے والے تمام راستے سربمہر کر دیے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں نے، جو شروع میں اپنے لیے ایک علیحدہ خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے، اپنی مسلح جدوجہد کا آغاز 1984 میں کیا تھا۔ کرد نسل کے باشندے ترکی میں سب سے بڑی نسلی اقلیت ہیں۔ اب تک کرد مسلح تنازعے کے باعث ترکی میں گزشتہ تین عشروں سے بھی زائد عرصے کے دوران ہزارہا افراد مارے جا چکے ہیں۔

Türkei Anschlag in Istanbul Aufnahme eines Touristen

استنبول میں ہلاکت خیز خود کش بم حملہ، موقع پر موجود ایک سیاح کی موبائل فون سے بنائی گئی تصویر

داعش کا خود کش حملہ

دیار باقر میں آج کے ہلاکت خیز حملے سے پہلے اسی ہفتے منگل بارہ جنوری کے روز استنبول میں جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایک عسکریت پسند کی طرف سے ایک بڑا خود کش بم دھماکا بھی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والے تمام 10 افراد وہ جرمن سیاح تھے، جو اس بم دھماکے کے وقت استنبول کے سیاحوں میں انتہائی مقبول مرکزی اور تاریخی حصے میں موجود تھے۔

اسی دوران ترک وزیر داخلہ نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ سکیورٹی فورسز استنبول کے اس بم حملے کی چھان بین کے دوران اب تک سات مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر چکی ہیں۔

DW.COM