ترکی فرانس کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی جانب | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی فرانس کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی جانب

فرانسیسی پارلیمان کے ایوان زیریں نے پہلی عالمی جنگ میں ترکی میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے انکار کو جرم قرار دینے سے متعلق قانون منظور کر لیا ہے۔ ابھی سینیٹ سے اس قانون کی توثیق ہونا باقی ہے۔

پہلی عالمی جنگ میں عثمانیہ دور حکومت میں ترکی میں مقیم آرمینیائی نسل کے باشندوں کا قتل عام ہوا تھا۔ فرانسیسی پارلیمان میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے اس ’نسل کشی‘ سے انکار کو جرم قرار دینے کے بل کو ایوان زیریں میں پیش کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اس بل پر ووٹنگ آج جمعرات کے روز ہو رہی ہے۔ اس قانون کے بارےمیں خیال کیا جا رہا ہے کہ فرانسیسی قومی اسمبلی اسے ممکنہ طور پر منظور کر لے گی اور یہ توثیق کے لیے ایوان بالا یا سینیٹ میں بھیج دیا جائے گا۔

فرانس میں سن 2001ء میں اسی معاملے پر ایک بل منظور کیا گیا تھا، جس میں ترکوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ کہا گیا تھا، تاہم اس کا انکار جرم کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔

اگر فرانس میں اس قانون کو منظور کر لیا گیا، تو اس قتل عام کے انکار کو جرم تصور کرتے ہوئے کسی شخص کو ایک برس تک کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ایسے شخص کو 45 ہزار یورو جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

آرمینیائی باشندوں کے مطابق 1915ء سے 1916ء تک جاری رہنے والے اس قتل عام میں مجموعی طور پر ایک اعشاریہ دو ملین افراد کو ہلاک کیا گیا۔ تاہم ترکی اس قتل عام میں تین لاکھ آرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کو تسلیم کرتا ہے۔ ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقی ترکی پر روسی فوج کی جارحیت کے بعد غدر کی صورتحال میں آرمینیائی باشندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ترک بھی قتل ہوئے۔

سیاسی مبصرین صدر نکولا سارکوزی کی جماعت کے ایک رکن کی جانب سے پیش کردہ اس بل کو اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں فرانس میں رہنے والے آدھ ملین آرمینیائی باشندوں کو ووٹ کے لیے راغب کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

ترکی کا موقف ہے کہ اس بل کی منظوری کی صورت میں فرانس میں بسنے والے ترک باشندوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے چند روز قبل ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے دھمکی دی تھی کہ یہ قانون منظور کیا گیا، تو ترکی فرانس کے ساتھ سفارتی، عسکری اور اقتصادی شعبوں سمیت ہر سطح پر تعاون منجمد کر دے گا۔ گزشتہ روز رجب طیب ایردوآن نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس بل کی منظوری کی صورت میں ترکی فرانس کے خلاف پابندیاں عائد کر دے گا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM

اشتہار