ترکی شام میں عسکری کارروائی روک دے، میرکل کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 17.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی شام میں عسکری کارروائی روک دے، میرکل کا مطالبہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی شام میں عسکری کارروائی روک دے۔ انہوں نے کہا کہ اس فوجی کارروائی سے شام کے پہلے سے ہی بگڑے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک فورسز کو شمالی شام میں اپنی کارروائی ترک کر دینا چاہیے۔ میرکل نے جمعرات کے دن پارلیمان میں ایک تقریر میں کہا کہ شام میں ترک عسکری کارروائی کی وجہ سے جنگ سے تباہ حال اس ملک میں لوگوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

میرکل نے شمالی شام میں جاری ترک فوجی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ میں بھی نئے سکیورٹی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا اشارہ انتہا پسند تنظیم 'اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب تھا۔ واضح رہے کہ شمالی شام میں کرد فورسز نے داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ سن دو ہزار چودہ میں شامی کرد جنگجوؤں نے امریکا کی حمایت سے جہادیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

ساتھ ہی میرکل نے کہا کہ ترکی نے تقریبا 3.6 ملین شامی مہاجرین کو پناہ دے کر یورپ کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے۔ جرمن چانسلر کے مطابق تنقید کے باوجود وہ یورپ اور ترکی کے مابین ہونے والے مہاجرین کے معاہدے کا دفاع کرتی رہیں گی۔

ترکی نے کرد باغیوں سے نمٹنے کی خاطر شام میں اپنی عسکری کارروائی کا آغاز نو اکتوبر کو کیا تھا۔ اس کارروائی میں ترک فورسز بالخصوص شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ انقرہ حکومت ان جنگجوؤں کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک قرار دیتی ہے۔ کرد باغی ترکی میں آزادی کی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی ان باغیوں اور ان سے وابستہ تمام جنگجو گروہوں کو ‘دہشت گرد‘ قرار دیتا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو آج انقرہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پومپیو کی کوشش ہو گی کہ وہ شام کے شمالی حصے میں فائر بندی کی خاطر ترکی کو رضا مند کر لیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں ترک افواج کی کارروائی پر غیر جانبدارنہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ترکی نے سیز فائر نہ کی تو انقرہ پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ دوسری طرف ترکی بضد ہے کہ وہ شامی کرد جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ ترکی ان جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

دوسری طرف شامی فوج کامیاب پیش قدمی کرتے ہوئے بدھ کی رات کو کوبانی شہر کے مضافات تک پہنچ گئی ہے۔ شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج کی اس کامیابی کو شمالی شام میں جاری لڑائی میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کوبانی پر شامی فورسز کے قبضے کی صورت میں وہاں ترک فوجیوں کی کارروائی میں رخنہ پڑے گا۔ ترک افواج نے حالیہ ہفتوں میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کوبانی کے کچھ مغربی اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ ترکی ان علاقوں میں کرد جنگجوؤں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔

ع ب / ع ح / خبر رساں ادارے

DW.COM