ترکی: ایک برس کے دوران کتنے حملے ہوئے؟ | حالات حاضرہ | DW | 29.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: ایک برس کے دوران کتنے حملے ہوئے؟

ترکی ستمبر 2014ء میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف قائم کیے جانے والے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ترکی میں شدت پسندانہ حملوں میں تیزی آئی ہے۔

ترکی: ایک برس کے دوران کتنے حملے ہوئے؟

ترکی ستمبر 2014ء میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف قائم کیے جانے والے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ترکی میں شدت پسندانہ حملوں میں تیزی آئی ہے۔

ترکی کو صرف اسلامک اسٹیٹ کی دہشت گردی کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ کرد شدت پسند بھی انقرہ حکومت اور ترک عوام کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ترکی میں جولائی 2015ء کے بعد سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی تفصیل۔

28 جون 2016ء

استنبول کے اتا ترک ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے میں 36 افراد ہلاک اور تقریباً 150 زخمی ہو گئے۔ ترک حکام نے اس کارروائی کا ذمہ دار دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کو قرار دیا ہے۔ اتا ترک ہوائی اڈے کو یورپ کا تیسرا مصروف ترین ایئر پورٹ قرار دیا جاتا ہے۔

19 مارچ 2016ء

اس روز بھی دہشت گردوں کا نشانہ استنبول ہی تھا۔ اس مرتبہ شہر کے گنجان آباد علاقے میں ہونے والے خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق خود کش بمبار اسلامک اسٹیٹ سے ہمدردی رکھنے والا ایک ترک شہری تھا۔ اسی وجہ سے اس حملے کی ذمہ داری بھی آئی ایس پر ڈالی گئی حالانکہ اس گروپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

13 مارچ 2016ء

ایک کرد خاتون نے دارالحکومت انقرہ کے ایک مصروف علاقے میں اپنی کار کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس دھماکے میں 37 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کردستان فریڈم فیلکن ’ ٹی اے کے‘ نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

17 فروری 2016ء

اس مرتبہ دہشت گردوں کا نشانہ ترک فوج تھی۔ اس خود کش کار بم حملے میں 29 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ کردستان فریڈم فیلکن کے بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے ترک فوج کی جانب سے کرد علاقوں میں فوجی آپریشن کے رد عمل میں یہ حملہ کیا تھا۔

12 جنوری 2016ء

استنبول کے تاریخی علاقے میں ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس واقعے میں بارہ جرمن سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ حملہ کرنے والا ایک شامی باشندہ تھا، جو ایک پناہ گزین کے طور پر ترکی میں داخل ہوا تھا۔

10 اکتوبر 2015ء

یہ ترکی کی تاریخ کا ایک خونریز ترین دن تھا۔ اس روز دہشت گردوں نے انقرہ میں ایک عوامی جلوس کو نشانہ بنایا۔ شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے باہر ہونے والے دوہرے خود کش حملوں میں 102 شہری لقمہ اجل بنے۔ کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے تاہم ترک حکام کے مطابق یہ اسلامک اسٹیٹ کی ایک مقامی شاخ کی کارستانی تھی۔

20 جولائی 2015ء

ایک کرد نژاد ترک باشندے نے ملک کے جنوبی حصے سوروچ میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس واقعے میں 33 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر کرد ہی تھے۔ حکام نے اس واقعے کی ذمہ داری بھی اسلامک اسٹیٹ پر عائد کی تھی۔