ترقی پسندوں کی انتخابی سیاست اور مقاصد | الیکشن اسپیشل 2018 | DW | 06.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

الیکشن اسپیشل 2018

ترقی پسندوں کی انتخابی سیاست اور مقاصد

حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے بائیں بازو کے رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسندوں کا کہنا ہے کہ ان کی شکست دراصل شکست نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں انفرادی انتخابی اخراجات کی قانونی حد چالیس لاکھ ہو اور اخراجات کا حقیقی تخمینہ کروڑوں روپے تک پہنچتا ہو، وہاں کچھ ایسے انتخابی امیدوار بھی تھے جو محض نظریوں، خوابوں اور ارادوں کے بھروسے پر میدان میں اترے۔ ان میں سے زیادہ تر کو اپنی شکست کا مکمل یقین بھی تھا لیکن وہ اس انتخابی ماحول کو دیرپا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اپنی انتخابی مہموں کے دوران ایسے بیشتر امیدواروں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ وہ اس انتخابی مہم کو عوام کے ساتھ رابطے مضبوط کرنے اور پہلے سے جاری آگاہی کی مہم کا دائرہ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایسے امیدواروں کی اکثریت کے پاس پاکستان کے انتخابی کلچر کے لیے درکار لوازمات میں سے کچھ نہ تھا۔ وہ نہ تو دولت مند تھے کہ بھاری انتخابی اخراجات کر سکتے، سینکڑوں دفاتر کھول سکتے، روزانہ سینکڑوں بریانی کی دیگیں پکوا سکتے، ووٹروں سے لے کر پولنگ ایجنٹوں تک کو معاوضہ ادا کر سکتے، سینکڑوں بلکہ ہزاروں فلیکس بینر چھپوا سکتے یا ٹی وی پر اشتہارات دے سکتے۔ ان امیدواروں کے نظریات کچھ اس نوعیت کے تھے کہ انہیں نہ تو کسی مقامی سرمایہ دار کی پشت پناہی حاصل تھی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد۔ لیکن یہ امیدوار بڑے بڑے خواب دیکھ رہے تھے جو بادی النظر میں ناقابل عمل دکھائی دیتے تھے۔

تھرپارکر کی ایک ہندو خاتون سنیتا پرمار نے اپنے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں پر سے جاگیرداروں اور وڈیروں کی صدیوں سے قائم گرفت کو توڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وڈیروں کی گرفت ہی ہے کہ جس کی وجہ سے ان کے لوگ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور یوں اس احساس کمتری سے نہیں نکل سکتے جس نے ان کی تمام تر صلاحیتوں کو نگل لیا ہے۔

پختون تحفظ موومنٹ کے علی وزیر اور محسن داوڑ نے شورش زدہ قبائلی علاقہ جات کے پسماندہ عوام کے حقوق کا نعرہ لگایا۔ گو ان کی تحریک نے ان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کو پسند نہیں کیا لیکن وہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے سیاسی، سماجی، قانونی اور شہری حقوق کی بازیابی کا نعرہ لگا کر انتخابی سیاست میں اترے۔ انہوں نے بہت واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرہ لگایا اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے مطالبہ کو دہرایا۔

اسی طرح کرم ایجنسی سے ایک خاتون علی بیگم نے حلقہ این اے 46 سے انتخابی مہم چلائی اور قبائلی روایات اور ’بوسیدہ طرز سیاست‘ ختم کرنے کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے پارہ چنار میں انتخابی دفتر کھولا اور گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلائی۔ ان کے حلقے سے 23 مرد امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے۔ علی بیگم کو اپنے علاقے کی پہلی خاتون سول سرونٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

جبران ناصر نے ایک ترقی پسند معاشرے کی تعمیر اور انتہا پسندی کی مخالفت کا نعرہ لے کر انتخابی سیاست میں سامنے آئے۔ انتخابات کے فورا بعد انہوں نے اپنی شکست تسلیم کی اور ایک نئی ’ایک عوام تحریک‘ کا اعلان کیا۔ اس تنظیم کے مقاصد میں ’ہر شہری کی زندگی، حقوق اور جائیداد کا تحفظ‘ شامل ہیں اور اس کے علاوہ وہ بنیادی ضروریات، جیسا کہ پانی، بجلی، صحت اور تعلیم کے مساوی حقوق کا نعرہ لگا کر چلے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جبران ناصر کا کہنا تھا، ’’ان انتخابات نے ایک ایسی سیاست کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو تعصب اور خوف سے بالاتر ہو اور ہمیں انہی بنیادوں پر کام کرنا ہے۔ ہمارا سفر اب شروع ہوا ہے اور ہم ملک بھر میں اس تحریک کو مربوط اور منظم کریں گے۔‘‘

معروف گلوکار اور برابری پارٹی کے رہنما جواد احمد نے لاہور کے حلقہ این اے 131 اور 132 سے عمران خان، سعد رفیق اور شہباز شریف کے خلاف الیکشن لڑا۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’لاہور کے ان حلقوں میں کروڑوں روپے انتخابی مہموں پرخرچ کیے گئے۔ ہم نے سب سے زیادہ شکایات فائل کیں اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو مشکل میں ڈالے رکھا۔ بہرحال ہمیں ان انتخابات سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ ہمیں جیتنے کی توقع نہیں تھی بلکہ ہم اپنی پارٹی اور پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے میدان میں اترے تھے۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہم نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔ عوام میں ہماری پارٹی اور پروگرام کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ہم نے چار یونین کونسلوں میں تنظیم سازی کی ہے اور فوراﹰ بلدیاتی انتخابات کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ لوگ تو اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ہم ان کے پاس الیکشن نے بعد بھی جا رہے ہیں۔‘‘

عوامی ورکرز پارٹی کی عصمت رضا شاہجہان نے اسلام آباد کے حلقہ این اے چون سے الیکشن لڑا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’جاگیردار کو اپنے علاقے اور رعایا کا پکا ووٹ ملتا ہے۔ غریب آدمی مجبور ہے اور مڈل کلاس موقع پرستی کا مظاہرہ کرتی ہے۔‘‘ عصمت کا خیال ہے کہ پاکستان کے ترقی پسند حلقوں کو مرکزی سیاسی دھارے میں ضرور آنا چاہیے لیکن انہیں اپنا طریقہ کار بدلنا ہو گا۔ ’’ہمیں نئے زاویے سوچنا ہوں گے۔ انتخابی عمل کا معاملہ مختلف ہو چکا ہے۔ ہمیں شہری علاقوں میں مڈل کلاس سے رجوع کرنا ہوگا۔ پاکستان رد جمہوریت سے گزر رہا ہے اور یہاں سویلین جمہوریت قائم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہمارے لیے ہہت چیلنجز ہیں اور ہمیں اب پرانے طریقے چھوڑنا ہوں گے۔‘‘

DW.COM