تحفظ ماحول کے لیے کس کی کوششیں سب سے زیادہ ہیں؟ | سائنس اور ماحول | DW | 15.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تحفظ ماحول کے لیے کس کی کوششیں سب سے زیادہ ہیں؟

بہت سے ممالک تحفظ ماحول کے لیے اپنے اقدامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سچ کیا ہے اور اصل میں ’ہیرو ممالک‘ کون سے ہیں؟ اس کا پتہ کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس رپورٹ سے چلتا ہے۔

جرمنی کے شہر بون میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ہر ملک تحفظ ماحول کے لیے کی جانے والی اپنی کامیابیوں کا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے لیکن بدھ 15 نومبر کو جاری ہونے والی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کون سا ملک اس حوالے سے سب سے آگے ہے اور کون سب سے پیچھے ہے۔

کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس (سی سی پی آئی) کے مطابق ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے حوالے سے سب سے زیادہ کام سویڈن، لیتھوانیا اور مراکش نے کیا ہے جبکہ چھپن ملکوں کی اس لسٹ میں سب سے نیچے جنوبی کوریا، ایران اور سعودی عرب ہیں۔ یہ رپورٹ جرمنی کی غیر سرکاری ماحولیاتی تنظیم جرمن واچ اور کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔

اس فہرست میں جرمنی کو گزشتہ سال کی طرح بائیسویں نمبر پر رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ ابھی تک کوئلے کا بہت زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ یورپی یونین مجموعی طور پر اکیسویں نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں برس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی اوسطاﹰ سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن بری خبر یہ ہے کہ دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی توانائی کے حوالے سے ایسے اقدامات نہیں اٹھائے، جسے ’بہت بہتر‘ کی گیٹیگری میں شامل کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق سویڈن، لیتھوانیا اور مراکش کی بہترین کوششوں کے باوجود بھی ضرر رساں گیسوں کی کمی کی طرف یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ جب تک دنیا کے دیگر بڑے ممالک ان کی پیروی نہیں کرتے، اس وقت تک کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہے۔

اسکینڈے نیویا کے ممالک نے سن دو ہزار تیس تک اپنی توانائی کی تمام تر ضروریات قابل تجدید ذرائع سے پوری کرنے کا ہدف قائم کر رکھا ہے۔ اگر یہ ممالک ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو تب بھی عالمی حدت کو دو ڈگری سے نیچے رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

اشتہار