تحریک لبیک کا لانگ مارچ، چار افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تحریک لبیک کا لانگ مارچ، چار افراد ہلاک

 کالعدم تحریک لبیک پاکستان کےلانگ مارچ کو لاہور میں ہی روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ جمعے کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں اراکین اپنے رہنما سعد رضوی کی رہائی کے مطالبے پر زور دینے کے لیے اسلام آباد تک لانگ مارچ کر رہے ہیں۔

جمعے کے روز مظاہرہ پرتشدد ہوگیا۔ جس کےبعد پولیس کی کارروائی میں کم از کم چار افراد ہلا ک ہوگئے۔ ان میں دو شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بعض خبروں کے مطابق تین پولیس اہلکار ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین کوہفتے کے روز لاہور سے آگے بڑھنے اور اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بڑی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ فرنٹیئر کانسٹبلیری (ایف سی) کے 1000جوان اور رینجرز کے 500 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اسلام آباد جانے والی تمام اہم شاہراوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اور کنٹینرلگا دیے گئے ہیں۔ ٹی ایل پی کے اہم رہنماؤں کے روپوش ہوجانے کی خبریں ہیں۔

اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مظاہرین کو امید ہے کہ وہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے اور حکومت پر اپنے رہنما سعد رضوی کو قید سے رہا کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ دوسری طرف پنجاب کے آئی جی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو کسی بھی صورت میں اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی ایک فرانسیسی جریدے میں اشاعت کے خلاف گزشتہ برس پاکستان میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد سعد رضوی کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ٹی ایل پی کی دھرنے اور مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور اس کے ذریعہ وہ حکومتوں سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے میں کامیاب بھی رہی ہے۔ اپریل میں ٹی ایل پی نے کئی دنوں تک دھرنا دیا تھا جس کی وجہ سے نقل و حمل مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔ اس دوران تصادم میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ٹی ایل پی گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے متنازعہ توہین اسلام قانون کی حمایت کے لیے سیاسی مہم چلارہی ہے۔ اس قانون کے تحت اسلام کی توہین کرنے والے شخص کو موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔

جمعے کے روز پولیس اور مظاہرین میں اس وقت تصادم کا واقعہ پیش آیا جب پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ٹی ایل پی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے کارکنان پرامن طریقے سے مارچ کررہے تھے لیکن پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل داغے۔

ٹی ایل پی کے ایک ترجمان ساجد سیفی کا کہنا تھا کہ پولیس نے بڑی بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں جس سے سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔ پارٹی کے ہمدردوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی ہیں جن میں پولیس کو آنسو گیس کے شیل پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ جب کہ بعض زخمیوں کوطبی امداد کے لیے منتظر دیکھا جاسکتا ہے۔

ٹی ایل پی کے ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس کارروائی میں 500 سے زائد کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں 15 کی حالت تشویش ناک ہے۔

تصادم اور ہلاکت کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نیز کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالا ت کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے۔

 ج ا/ ب ج   (اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے)

 

DW.COM