تحریک لبیک اِن ایکشن: کیا قانون حرکت میں آئے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تحریک لبیک اِن ایکشن: کیا قانون حرکت میں آئے گا؟

تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے پیش نظر پاکستان کے کئی شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں بھی پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے، جہاں احتجاج کی وجہ سے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہے۔

کالعدم مذہبی تنظیم کے ماضی کے مظاہرے پرتشدد رہے تھے، جن میں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا گیا بلکہ کئی عام شہریوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ کئی سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔

تحریک لبیک کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایک ہزار سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اپنے ملک کا نقصان نہ کریں: وزیر اعظم عمران خان

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے مرکز کے قریب پولیس کی بھاری نفری ہے جب کہ شہر کے کچھ داخلی اور خارجی راستوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت پنجاب نے تحریک لبیک سے بات چیت کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

Chadim Hussain

کالعدم تحریک لبیک کی بنیاد مشہور عالم دین مرحوم مولانا خادم حسین رضوی نے رکھی تھی

مذاکراتی سلسلہ

تحریک لیبک پاکستان ایک رہنما رضوان سیفی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کل سے مذاکرات کے دو یا تین راؤنڈز ہو چکے ہیں۔ پندرہ منٹ پہلے حکومت نے پھر ایک راؤنڈ کے لیے ہمارے رہنماؤں کو بلایا ہے۔ ہم چوبرجی کے قریب ہیں اور مارچ کے لیے تیار ہیں۔ اگر معاہدے پر من وعن عمل نہیں ہوا تو مارچ سیدھا اسلام آباد جائے گا۔ ہمارے ساتھ انسانوں کا سمندر ہے۔‘‘

واضح رہے کہ کچھ عرصہ پہلے تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فرانس کے سفیر کو فوری طور پر نکالے۔ اس حوالے سے کالعدم تنظیم نے مظاہرے بھی کیے تھے۔

مظاہرے کے بعد حکومتی کمیٹی نے تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے تھے، جن میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لے جایا جائے گا۔ اب تحریک لبیک کا یہ دعویٰ ہے کہ حکومت نے اپنے اس وعدے کی پاسداری نہیں کی۔

سعد حسین رضوی کون ہیں؟

تحریکِ لبیک کے مطالبات

اس تحریک نے مطالبے کیے ہیں کہ فرانس کے سفیر کو فوری طور پر نکالا جائے، ان کے کارکنان پر مقدمات ختم کیے جائیں اور اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

تحریک لبیک نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانیں گئے تو بائیس اکتوبر کو بعد از نماز جمعہ لاہور سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کریں گے۔

Pakistan Protest nach Verhaftung von Saad Rizvi

اپرین سن 2021 میں تحریک لبیک کے مشتعل کارکنوں کو پولیس کی جانب سے پھینکی گئی آنسو گیس کا سامنا

 یہ مارچ اور احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال دی جا چکی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی آج لاہور پہنچے ہیں جہاں انہوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی۔

مذہب کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان سمیت ملک کی مذہبی جماعتیں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور حکومت اور ریاست کو بلیک میل کرتی ہیں۔

ایم کیو ایم کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی کی رکن کشورزہراء کا کہنا ہے کہ ریاست کا کچھ کالعدم تنظیموں کی طرف ایک رویہ ہے اور کچھ کی طرف دوسرا۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تحریک لبیک پاکستان مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور حکومت اور ریاست کو بلیک میل کر رہی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مظاہرہ اگر کسی بلوچ، سندھی یا کسی اور کالعدم تنظیم کی طرف سے ہوتا تو ریاست حرکت میں آ جاتی ہے اور کریک ڈاؤن شروع ہو جاتا۔‘‘

پاکستان:فرانسیسی سفیر کی بے دخلی پر پارلیمان میں بحث

حکومت لچک نہ دکھائے

کشورزہراء نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو بالکل تحریک لبیک پاکستان کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’حکومت نے پابندی لگائی ہے اس کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں اور رہنماؤں پر جو مقدمات میں ان کو بالکل ختم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ان مقدمات کے لیے وہ عدالت سے رجوع کریں۔ اس کے علاوہ اگر مظاہرے کے دوران سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچتا ہے، تو اس کا مقدمہ بھی ان کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ انہوں نے ماضی میں بھی پرتشدد مظاہرے کر کے کاروباری زندگی کو متاثر کیا۔‘‘

Pakistan Demonstration für Hinrichtung Asia Bibi

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے موقع پر بھی تحریک لبیک نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا

خطرناک رجحان

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ماضی میں سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف مذہبی جماعتوں کی سرپرستی کی گئی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک حقیقت بن گئیں۔ بالکل اسی طرح جمہوری حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان کو آگے لایا گیا۔ اس کی سرپرستی کی گئی لیکن آج تحریک لبیک پاکستان ایک حقیقت بن گئی ہے۔ اس پالیسی کا نقصان نہ صرف سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے، اداروں کو ہوتا ہے بلکہ اس کا نقصان ریاست کو بھی ہوتا ہے اور پورے معاشرے کو اس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔‘‘

کیا تحریک لبیک پاکستان پر سے پابندی اٹھا لی جائے گی؟

سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی کا کہنا ہے کہ تمام حکومتیں دائیں بازو کی رجعت پسند قوتوں کے خلاف کمزور ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، " اس رویہ کی وجہ سے تحریک لبیک پاکستان جیسی تنظیموں کے حوصلے بڑھے ہیں اور وہ پہلے ایک مطالبہ کرتی ہیں پھر دوسرا اور پھر ان کے مطالبات بڑھتے جاتے ہیں۔ ابھی یہ لاہور سے نکلے ہیں اور یہ مزید آگے جائیں گے اور ممکنہ طور پر نجی اور سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچائیں۔‘‘

Pakistan Protest Verbot Islamisten Partei Tehrik-e-Labaik

تحریک لبیک کے ورکرز ایک سابقہ مظاہرے کے دوران پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے

ایک فرد کی رہائی

 لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ پوری کی پوری احتجاجی تحریک اس وقت ایک فرد کی رہائی کے لیے ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس تحریک کا کوئی مقصد مذہبی بھی نہیں ہے کیونکہ تحریک لبیک پاکستان نے سعد رضوی کو آگے کیا ہوا ہے اور بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ رضوی کی رہائی ہے لیکن ان کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنا طرز عمل نہ بدلیں۔‘‘

کشمیر میں تحریک لبیک پاکستان متحرک، قوم پرست تنظیموں کو تشویش

حبیب اکرم کے مطابق، ’’یہ ہماری ماضی کی غلطیاں ہیں، جن کا خمیازہ اب عوام بھگت رہی ہے۔ ماضی میں سعد رضوی کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کی سیاسی اہمیت بہت ہے اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے تو یہاں تک کہا کہ ممکنہ طور پر پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک پاکستان مل کر اگلا الیکشن لڑ سکتی ہے۔ تو اس طرح کے بیانات سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ ریاست وحکومت کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘