تحریک انصاف کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب | حالات حاضرہ | DW | 15.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تحریک انصاف کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لیے نامزد امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔ اسد قیصر نے بطور اسپیکر حلف اٹھایا تو نون لیگی ارکان نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ اسد قیصر ملکی قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس عہدے کے لیے ان کا مقابلہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مشترکہ طور پر نامزد کردہ امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ پارلیمان خورشید شاہ سے تھا۔ اسد قیصر نے 176 ووٹ حاصل کیے جب کہ خورشید شاہ کو 146 ووٹ ملے۔

اسد قیصر اس سے قبل سن 2013 سے 2018 تک خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے بعد چھوڑ دی تھی۔ اسپیکر قومی اسبملی ایاز صادق نے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کیا تو تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے ڈیسک بجا کر مبارک دی جب کہ اپوزیشن کے ارکان نے نعرے بازی کی۔

بعد ازاں اسد قیصر نے اسپیکر کے عہدے کا حلف اٹھا تو اس دوران بھی پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان پارلیمان نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگائے۔ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد اسد قیصر نے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل شروع کرایا۔

ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے قاسم سوری جب کہ اپوزیشن کی جانب سے سعد محمود کو نامزد کیا گیا تھا۔ قاسم سوری بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست جیتے تھے۔ انہیں 184 ووٹ حاصل ہوئے۔

’شناختی کارڈ تو دکھائیں‘

قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے ووٹنگ کے دوران کئی دلچسپ واقعات بھی سامنے آئے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور ممکنہ طور پر آئندہ ملکی وزیراعظم ووٹ ڈالنے کے لیے گئے تو ان کے پاس قومی شناختی کارڈٰ نہیں تھا۔ بعد ازاں اسپیکر ایاز صادق نے انہیں شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی۔

عمران خان کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود نہ ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’شناختی کارڈ تو بھول گئے کہیں وعدے بھی نہ بھول جائیے گا‘ جب کہ ایک صارف نے لکھا، ’’ووٹوں سے بنا ہوا وزیر اعظم نہ واسکٹ بھولتا ہے نہ شناختی کارڈ۔‘‘

اس کے علاوہ نو منتخب اسپیکر اسد قیصر کو بھی اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے ووٹ ڈالنے والے مرد ارکان پارلیمان کے ساتھ تو کھڑے ہو کر ہاتھ ملاتے رہے لیکن خواتین ارکان کے لیے نہیں اٹھے۔

عمران خان ملکی وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار

پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی حمایت سے اسد قیصر کے اسپیکر بننے کے بعد بظاہر عمران خان کے لیے ملکی وزیراعظم بننے کے لیے درکار ارکان کی تعداد پوری دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان نے آج وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دیے ہیں۔

ملکی وزیراعظم کے عہدے کے لیے قومی اسمبلی کے ارکان جمعہ سترہ اگست کے روز ووٹ ڈالیں گے جب کہ آئندہ پاکستانی وزیر اعظم ہفتے کے روز حلف اٹھائیں گے۔

DW.COM