تحریک انصاف بھی نیب کی پکڑ میں، صوبائی وزیر علیم خان گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 06.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تحریک انصاف بھی نیب کی پکڑ میں، صوبائی وزیر علیم خان گرفتار

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف بھی قومی احتساب بیورو یا نیب کی پکڑ میں آ گئی ہے۔ سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعیم خان کو بدھ چھ فروری کو نیب نے حراست میں لے لیا۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات عبدالعلیم خان کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے سامنے پیشی کے دوران وہ اس بارے میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے کہ ان کے اثاثے ان کے معلوم ذرائع آمدنی سے بہت زیادہ کیسے ہیں۔

نیب کے ایک ترجمان نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بتایا کہ اس ادارے کی طرف سے علیم خان کے بارے میں مختلف حوالوں سے تفتیش کی جا رہی تھی، جن میں ان کے مبینہ طور پر ایک سمندر پار کمپنی سے تعلق کا معاملہ بھی شامل تھا۔

ترجمان کے مطابق، ’’عبدالعلیم خان کو آج بدھ کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ جب ان سے ان کے اثاثوں کے بارے میں سوالات پوچھے گئے، تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔‘‘

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علیم خان سے وفاقی احتساب بیورو کی طرف سے آج کیے جانے والے سوالات کا سلسلہ تقریباﹰ دو گھنٹے تک جا ری رہا، جس کے بعد انہیں حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ساتھ لے کر آنے والا گاڑیوں کا قافلہ انہیں لیے بغیر ہی واپس چلا گیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق نیب نے گزشتہ برس جنوری میں ایسی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات اور ریکارڈ طلب کر لیے تھے، جو مبینہ طور پر ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔ ان کمپنیوں میں علیم خان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری مونس الہٰی کی سمندر پار قائم کردہ کمپنیاں بھی شامل تھیں۔

پاکستان کے چند نجی نشریاتی اداروں کے مطابق علیم خان کے خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اپنی گرفتاری کے بعد علیم ‌خان پنجاب کے سینیئر وزیر کے طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اس دوران علیم خان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا، ’’میں اپنی گرفتاری اور اپنے خلاف مقدمے سے متعلق قانونی جنگ عدالت میں لڑوں گا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 06:18

یہ جدوجہد آسان نہیں، نواز شریف

صوبائی وزیر اطلاعات کا موقف

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کے مطابق پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے علیم خان کی گرفتاری سے متعلق اس نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اہلکار یا بیوروکریٹ کو گرفتار کر سکے، جو غیر متناسب حد تک اثاثوں کا مالک ہو۔‘‘

چوہان نے اس بارے میں یہ بھی کہا، ’’علیم خان کوئی مشتبہ فرد نہیں ہیں اور ان کے خلاف نیب میں کوئی ریفرنس بھی دائر نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک رہنما محمد زبیر نے عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی خبر پر اپنے رد عمل میں کہا، ’’یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘‘ عبدالعلیم خان کی گرفتاری پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی فوری طور پر ایک بھرپور بحث شروع ہو گئی۔ اسی دوران نیب کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ علیم خان کو کل جمعرات کے روز نیب کی ایک عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

م م / ع س

DW.COM

Audios and videos on the topic