تحریر چوک پر مظاہرین قابض، مصر میں سکیورٹی چوکس | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تحریر چوک پر مظاہرین قابض، مصر میں سکیورٹی چوکس

حسنی مبارک کے طویل اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ مبارک حکومت کے خاتمے کے بعد سے تحریر چوک قاہرہ کے نوجوانوں اور مظاہرین کے لیے آزادی و احتجاج کی ایک علامت بن چکا ہے۔ مصر ایک بار پھر شدید مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔

default

قاہرہ میں آج اتوار کے روز بھی مظاہرین کے قافلے تحریر چوک پہنچتے رہے۔ قاہرہ شہر کے نواحی مقامات میں سے اتوار کو بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان اکا دکا جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ مصر کے التحریر چوک میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کی لپیٹ میں اسکندریہ  اور سوئز کے شہربھی آ گئے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم دو افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے علاوہ  ربر بُلٹس بھی استعمال کیں۔

Ägypten Proteste auf dem Tahrir-Platz in Kairo

تحریر چوک میں جمع عوام

ادھر وزیر اعظم عصام عبدالعزیز شرف نے تازہ مظاہروں کے سبب پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں کابینہ کی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔

تازہ مظاہرے التحریر چوک سے مظاہرین کو ہٹانے سے شروع ہوئے ہیں۔  یہ خیمہ زن مظاہرین مبارک دور کے دوران احتجاجی مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ داران کے خلاف اسپیڈی ٹرائل کا مطالبہ رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے ہزاروں مزید افراد پہنچے اور صورت حال بگڑتی چلی گئی۔ حکومت نے تمام سرکاری عمارتوں کی نگرانی میں اضافہ کردیا ہے۔ التحریر چوک کی جانب جانے والی ٹریفک کے راستے کو سردست تبدیل کردیا گیا ہے۔  مظاہرین میں نوجوانوں کے علاوہ مصر کی مذہبی جماعتوں کے سرگرم کارکن بھی شامل ہیں۔

مصر میں فسادات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پارلیمانی انتخابات کے انعقاد میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر مظاہروں کا سلسلہ طول پکڑ گیا تو انتخابی عمل پٹری سے اتر سکتا ہے۔ مبارک دور کے اختتام پر فوج نے جو مقبولیت حاصل کی تھی وہ بھی تحلیل ہو رہی ہے اور لوگ فوجی کونسل کی سست رفتار پالیسیوں سے اکتانے لگے ہیں۔ چند ہفتے قبل ہی مصر کی حکمران فوجی کونسل نے نئے دستور کے لیے ایک بنیادی دستاویز مرتب کی ہے جس کے مطابق فوجی اخراجات سویلین آڈٹ سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دستوری دستاویز کی مناسبت سے نائب وزیر اعظم علی السلیمی اور اخوان المسلمون کی سیاسی جماعت کے درمیان بات چیت کے عمل کو بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔

مصر کے حالات و واقعات میں ایک اور پیش رفت اسرائیل کے سفیر Yitzhak Levanon کی قاہرہ واپسی ہے۔ اسرائیلی سفیر اور ان کا عملہ ستمبر کے مہینے میں ہونے والے فسادات کے دوران اسرائیل لوٹ گیا تھا۔ اسرائیل نے قاہرہ کے لیے ایک نئے سفیر  Yaakov Amitai کی تعیناتی کا بھی اعلان کر دیا ہے، جو دسمبر میں اپنا منصب سنبھالیں گے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق قاہرہ کے سفارت خانے میں بقیہ عملہ اس وقت اپنی ڈیوٹیاں سنبھالے گا جب حالات پوری طرح ساز گار ہو جائیں گے۔ حسنی مبارک کے دور میں اسرائیل مخالف بیانات کم سنائی دیتے تھے لیکن فروری سے عوامی تحریک کی کامیابی کے بعد سے اسرائیل کے خلاف اب لوگ کھلے عام گفتگو کرنے سے نہیں گھبراتے۔

رپورٹ: عابد حسین  ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

اشتہار