تجارتی جنگ میں امریکا اور چین ’فائر بندی‘ پر متفق | حالات حاضرہ | DW | 29.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تجارتی جنگ میں امریکا اور چین ’فائر بندی‘ پر متفق

امریکا اور چین کے مابین گزشتہ ایک سال سے جاری تجارتی جنگ میں ’جنگ بندی‘ پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ جاپانی شہر اوساکا میں منعقدہ جی ٹوئنٹی سمٹ کے دوران تحفظ ماحول کے حوالے سے بھی ایک اہم ڈیل طے پا گئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے ہفتے کے دن لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک ڈیل پر اتفاق ظاہر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین جاری تجارتی جنگ ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور چین نے باہمی تجارتی مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چینی مصنوعات پر مزید اضافی محصولات عائد نہیں کریں گے۔ عالمی میڈیا میں اسے 'تجارتی جنگ‘ میں 'سیز فائر‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک برس سے جاری اس تجارتی جنگ کے دوران امریکا اور چین اپنے اپنے ہاں ایک دوسرے کی درآمدی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کر چکے ہیں۔ اس صورتحال سے خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین اس تنازعے کی وجہ سے بین الاقوامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جاپانی شہر اوساکا میں بیس ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی کے سربراہان مملکت و حکومت کی سمٹ کے حاشیے پر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے مابین ہوئی ملاقات کو تعمیری قرار دیا جا رہا ہے۔ ہفتہ انتیس جون کو ہوئی اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر شی کے ساتھ ان کے مذاکرات 'شاندار‘ رہے اور وہ دونوں اختلافات دور کرنے کے لیے درست راستے پر آ گئے ہیں۔

چینی صدر شی سے ملاقات سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی معاملات پر کسی ڈیل تک پہنچ گئے تو یہ پیش رفت تاریخی ہو گی۔ تاہم مبصرین کے بقول امریکا اور چین کے مابین تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہو گا۔

دوسری طرف جی ٹوئنٹی سمٹ کے دوران بیس میں سے انیس ممالک کے رہنما تحفظ ماحول کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ جی ٹوئنٹی کے یہی رکن ممالک سن دو ہزار اٹھارہ میں ارجنٹائن میں ہوئی ایک سربراہی کانفرنس میں بھی ایسی ہی ایک ڈیل پر رضا مند ہو گئے تھے تاہم پچھلے سال کی طرح اس مرتبہ بھی امریکا نے اس ڈیل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ امریکا نے انیس ممالک کی طرف سے تحفظ ماحول کے اس عزم کی ستائش کی ہے لیکن وہ خود اس عمل میں شریک نہیں ہو گا۔ میرکل کے بقول وہ کوشش کریں گی کہ سن دو ہزار سولہ میں طے پانے والے پیرس کے ماحولیاتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تمام رکن ممالک اپنی کوششوں کا اعادہ کریں۔

بیونس آئرس میں طے پانے والی ڈیل میں بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی روک تھام اور دیگر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی خاطر پیرس کلائیمٹ ڈیل پر مؤثر عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ع ب / م م / خبر رساں ادارے

DW.COM