تاریخ کا ارتقاء کیسے ہوتا ہے؟ | دستک | DW | 30.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

تاریخ کا ارتقاء کیسے ہوتا ہے؟

وقت کے ساتھ تاریخی واقعات میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے اور انہیں محفوظ بھی کیا رہا ہے۔ اس وجہ سے روز بروز تاریخ کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

تاریخ کے ابتدائی دور میں ملک اپنے ہمسایہ قوموں اور ملکوں سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ ان کی معلومات کا ذریعہ تاجر ہوتے تھے یا سیاح۔  زبان کے فرق کی وجہ سے بھی اجنبی رہتے تھے۔ اس ناواقفیت کی وجہ سے دوسرے ملکوں اور ان کے کلچر کے بارے میں ان کی رائے منفی ہوتی تھی انہیں یہ عام طور سے غیر مہذب یا باربیرین کہتے تھے۔ قوموں کے درمیان باہمی روابط اس وقت ہوتے جب ان میں آپس میں جنگیں ہوئیں اور بڑی بڑی سلطنتیں بنی ان روابط کی وجہ سے قومیں کھل کر ایک دوسرے کے قریب ہوئیں اور ایک دوسرے کے کلچر سے سیکھنا بھی شروع کیا۔

تاریخ کس طرح سے گلوبل ہوئی اور اس کے موضوعات میں اضافہ ہوا۔ اس موضوع پر  Writing History in the Global Era کتاب لکھی گئی جس کے مصنف  لین ہنٹ ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ تاریخ کیسے گلوبل ہوئی اور اس کو کیا مشکلات پیش آئیں۔

ایک لحاظ سے اس کی ابتداء چوتھی صدی قبل مسیح میں ہیرو ڈوٹس کی لکھی جانے والی تاریخ ہے۔ یہ کتاب ایران اور یونان کی جنگوں کے بعد لکھی گئی تھی۔ ہیرو ڈوٹس نے ان دو ملکوں کے تصادم کو مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والا نظریاتی تصادم کہا ہے۔

 یونان چونکہ جمہوری تھا اس لیے یہاں آزادی تھی۔ ایران میں بادشاہت کی وجہ سے جبر تھا۔ لہٰذا یہ جنگ آزادی اور استبداد کے درمیان تھی جس یونان کو فتح ہوئی۔ ہیرو ڈوٹس ایران اور مصر بھی گیا اور ذاتی طور پر وہاں کے حالات کا مشاہدہ کرکے انہیں تاریخ میں شامل کیا۔ رومی سلطنت کے عہد میں بھی دوسری قوموں کی تاریخ سے واقفیت شروع ہوئی۔

ان میں جرمن قبائل گال یعنی فرانسیسی، برطانوی اور بحرروم اور مشرق وسطیٰ کے ممالک شامل تھے۔ عربوں نے بھی جب فتوحات کیں تو ان کے مورخوں نے بھی دوسری قوموں کی تاریخ پر توجہ دی، لیکن اب تک تاریخ مکمل طور پر گلوبل نہیں ہوئی تھی۔

تاریخ نویسی میں اس وقت انقلابی تبدیلی آئی جب یورپی سامراج سے آزادی کے بعد ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ملک خود مختار ہوئے۔ ان ملکوں میں قومی ریاست کی بنیاد پڑی جس نے قومی تاریخ کو پیدا کیا۔ قومی تاریخ کا دائرہ جغرافیائی طور پر اپنے ملک کی حدود میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوم کے مختلف طبقوں قبائل، برادریوں اور بکھرے ہوئے لوگوں کو کلچر کی بنیاد پر ایک قوم کی شکل دی جائے اور ان میں شناخت کا احساس پیدا کیا جائے۔

اس لیے دوسری قوموں کی تاریخ کے بارے میں ان کا رویہ اس حد تک ہوتا ہے کہ جن کا تعلق ہو یا خارجہ پالیسی سے ورنہ وہ اپنی پوری توجہ قومی تاریخ کو وسیع تر کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جو اب تک گمنام تھے۔ اس لیے قومی تاریخ اور گلوبل تاریخ میں تصادم پیدا ہو جاتا ہے، جن میں گلوبل تاریخ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

جدید دور میں تاریخ کو مختلف نقطہ ہائے نظر کی مدد سے لکھا جارہا ہے۔ جیسے تحریک نسواں تاریخ میں عورتوں کے کردار کو اُجاگر کر رہی ہے۔ عوامی مورخ معاشرے کے عام لوگوں کو تاریخ کا حصہ بنا رہے ہیں۔ 1917ء کے انقلاب بعد تاریخ کو مارکسی نقطہ نظر سے لکھنے کی ابتدا ہوئی۔ جس کا مارکس نے کہا تھا کہ تاریخ میں طبقاتی تصادم کی وجہ سے اس کا عمل آگے بڑھتا ہے۔ اسی دور میں ہم عصر تاریخ کا بھی رواج ہوا۔ جس میں ملکوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ترقی کے معیار کو دیکھا اور یہ بھی کہ کیا ایک دوسرے سے سیکھنے کی ضرورت ہے یا علیحدہ رہ کر ترقی کی جا سکتی ہے۔

اس ضمن میں ورلڈ ہسٹری یا دنیا کی تاریخ کا مضمون اہمیت کا حامل رہا ہے، لیکن اس تاریخ میں دوسرے ملکوں کے بارے میں معلومات تو ہوتی تھیں، لیکن ان کے درمیان باہمی تعلقات اور رشتوں کو نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جیسے رومی سلطنت اور چین کا ہان خاندان ایک ہی عہد میں تھا، لیکن دونوں کے درمیان کوئی رابطہ یا ہم آہنگی نہیں تھی۔

دنیا کی تاریخ میں زیادہ تر مشرق اور مغرب کی قدیم تہذیبوں پر تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں آثار قدیمہ نے بھی ان کی مدد کی اور قدیم تہذیبوں کو دریافت کرکے ماضی کے سربستہ رازوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا، لیکن جدید دور میں گلوبل ہسٹری ایک بار پھر نئی توانائی کے ساتھ اُبھری ہے۔

 اس کی وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ Email، Internet اور Youtube نے معلومات کے خزانے دنیا بھر کے لیے کھول دیئے ہیں۔ ریلوے اور جہازوں کی وجہ سے آمدورفت میں سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ روزگار کی تلاش میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جارہے ہیں۔

جب معاشی ضروریات کی ضرورت بڑھ جائے تو وطن اور قوم کی محبت بھی کم ہو جاتی ہے اور لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں آباد ہوجاتے ہیں اور وہی اپنی نئی شناخت بناتے ہیں۔ تجارت نے بھی عالمی کلچر کو فروغ دیا اس کا اظہار ہم کھانوں میں، لباس میں، رہائش گاہوں میں اور شاپنگ مال کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ قومی زبانیں بھی تبدیل ہو رہی ہیں اور دیکھا جائے تو گلوبلائزیشن کے نام پر امریکی اور مغربی کلچر چھا رہا ہے۔

اس لیے امریکہ اور یورپ تاریخ کو گلوبل بنا رہا ہے، تاکہ گلوبل تاریخ قومی تاریخ کو کمزور کرکے یا اسے ختم کرکے مغربی سیاسی اور معاشی سلطنت کو قائم کرے۔ گلوبل تاریخ قومیں کلچرل کو بھی ختم کر رہی ہے اور قومی معیشت کو بھی اس لیے گلوبل تاریخ کے ساتھ گلوبلائزیشن کا عمل بھی جاری ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج ہو رہی ہے، لیکن اس گلوبل ولیج میں تیسری دنیا کے ملکوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اس لیے گلوبل تاریخ اور گلوبلائزیشن کا مقابلہ قومی تاریخ اور قومی کلچر کے ذریعے ہی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں ایشیا اور افریقہ ملکوں کو قوم کی نئی بنیاد رکھنی ہو گی۔ وہ قومی جو سیکولر بنیاد پر قائم ہو اور جس میں اقلیتوں کو اکثریت کے برابر حقوق دیے جائیں جمہوری اداروں اور روایات کو مستحکم کیا جائے اور عوام کو آزادی اور حقوق دیئے جائیں تاکہ ان کا لگاؤ اپنی قوم اور کلچر سے ہو۔ اسی صورت میں گلوبلائزیشن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ 

لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ گلوبل تاریخ سے واقفیت حاصل کی جائے اور جن ملکوں سے سیاسی اور تجارتی مفادات ہیں اور ان کی تاریخ اور کلچر کا مطالعہ کیا جائے جیسے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں یورپی اور امریکی تاریخ تو تھوڑی بہت پڑھائی جاتی ہے، لیکن چین اور جاپان سے جن سے ہمارے سیاسی اور تجارتی تعلقات ہیں ان کی تاریخ اور کلچر سے ہم بالکل نہ واقف ہیں۔ یہی صورتحال ہندوستان کی تاریخ کی ہے، نہ تو ہم اس کی قدیم اور جدید تارخ کو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی زبانوں کو سیکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عالمی اور گلوبل تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری قومی تاریخ بھی نامکمل ہے۔ ہمارے مورخ اس کی جدید سیاسی تاریخ پر توجہ دیتے ہیں لیکن اس کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور سیاسی تاریخ بھی طبقہ بالا کی سازشوں اور اقتدار کے حصول کی نظر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس قومی تاریخ کی موجودگی میں نہ تو قومی شعور کے پیدا ہونے کی امید ہے اور نہ ہی گلوبل تاریخ اور گلوبل لائزیشن سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ 

DW.COM