بے نظیر بھٹو کی برسی پر مريم، بلاول اور زرداری کی عمران خان پر کڑی تنقيد | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بے نظیر بھٹو کی برسی پر مريم، بلاول اور زرداری کی عمران خان پر کڑی تنقيد

پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا ایک اور بڑا جلسہ لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو کی 13 ویں برسی پر ہوا۔ اس جلسے سے مریم نواز کے خطاب کو حکومت مخالف تحریک کے نقطہ عروج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کيا کہ وزیراعظم عمران خان نے این آر او مانگنے کے ليے اپنے میسنجر کو جیل میں قید شہباز شریف کے پاس بھیجا مگر 'اس ہارے ہوئے اور تنہا کھڑے ہوئے شخص کو کوئی این آر او نہیں ديا جائے گا‘۔ مریم نے لاڑکانہ کے عوام سے اپنے خطاب ميں کہا، ''آپ کی بہن نواز شریف اور شہباز شریف کا محبت بھرا سلام لےکر آئی ہے۔ محبت بھرے استقبال پر آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔ آصف زرداری، بھائی بلاول بھٹو، بختاور اور ادی فریال کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘‘

مريم نواز نے کہا کہ کراچی میں بلاول کے مہمان کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا تو بلاول بھٹو نے مجھے نوڈیرو ہاؤس اپنے گھر پر رکھا تاکہ کوئی حملہ نہ کر سکے۔

لیگی نائب صدر نے کہا کہ جب ٹی وی پر محترمہ پر جان لیوا حملے کی خبر آئی، تو خبر سنتے ہی نواز شریف سب سےپہلے ہسپتال پہنچے۔ نواز شریف ان چند لوگوں میں سے تھے جنہیں ڈاکٹروں نے بی بی کی شہادت کی خبر دی۔ ''بینظیر کی شہادت پر میری والدہ سمیت سب رو رہے تھے، میں نے تو کچھ سال اپنی والدہ کے ساتھ گزارے لیکن بلاول نے بچپن میں ماں کو کھو دیا۔‘‘

مریم نواز نے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان چیخ چیخ کر کہہ رہے ہيں کہ انہيں کچھ نہیں آتا۔ مريم کے بقول اپوزیشن مہنگائی کی بات کرے تو وزیراعظم کہتے ہیں کہ اپوزیشن فوج کو بدنام کر رہی ہے، عمران خان نے ہی ایک پیج کی تکرار کر کے فوج کو بدنام کیا ہے۔ مریم نواز نے دعوی کيا کہ 'مجرم ناکام شخص پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہا ہے۔‘

بلاول بھٹو نے عمران خان کے استعفے کے ليے 31 جنوری کی ڈیڈ لائین دے دی

جلسے سےخطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ اب عوام 'سلیکٹڈ کو نہیں چھوڑيں گے‘۔ ان کے بقول عمران خان نہ عوام کے نمائندے ہیں اور نہ منتخب وزيراعظم ہیں۔ ''ہم ہر ظالم اور جابر سے ٹکرائیں گے۔ اگر اس حکومت کو مزید وقت دیا گيا تو یہ لوگ ملک کا بیڑا غرق کر ديں گے۔ اگر 31 جنوری تک عمران خان نے استعفیٰ نہ دیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔‘‘

بلاول نے مزيد کہا، ''مجرم حکمرانوں کے احتساب کا وقت آ چکا ہے، لوگ دو وقت کی روٹی اور مزدور مزدوری کے لیے ترس رہا ہے لیکن اندھے اور بہرے حکمرانوں کو نہ کچھ نظر آ رہا ہے اور نہ سنائی دے رہا ہے۔ ڈھائی سال میں لیا گیا قرضہ بلند ترین ہے، اس حکومت کو لیے گئے قرضے کا حساب دینا ہوگا۔ اس نالائق حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ آج این ایف سی کا حق نہیں دیا جا رہا ہے، یہ غاصب ہے غاصب، جس نے عوام کے حقوق غصب کیے ہیں۔‘‘

بلاول نے کہا کہ وہ کیسے مانيں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ ''جس جمہوریت کے لیے بینظیر نے جان دی یہ وہ جمہوریت نہیں، جہاں بولنے، تقریر کرنے اور پر امن احتجاج کی اجازت نہیں۔ ہم ہر آمر اور غاصب سے ٹکرائے، یہ کٹھ پتلی کس کھیت کی مولی ہے، اسے جمہوریت کا علم نہیں، حکومت کرنے کا ڈھنگ نہیں، ملک سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ لانے والے اسے لائے تو ہیں لیکن عقل اور حوصلہ کیسے دیتے۔‘‘

''میں نے مشرف کو ایوان صدر سے نکالا، عمران خان کیا چیز ہے؟‘‘ زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی جلسے سے ویڈیو لنک پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ عمران خان کو نکالنے کے ليے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت سے پاکستان چل نہیں رہا اور چلے گا بھی نہیں۔ ''یہ میرا دعویٰ ہے ان سے پاکستان نہیں چلے گا۔‘‘ سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے 'سابق صدر پرويز مشرف کو ایوان صدر سے نکالا، عمران خان کیا چیز ہيں۔‘

ویڈیو دیکھیے 02:48

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا آپریشن، پاکستان کا ردعمل