بے مثال پاکستانی کرکٹر عبدالقادر انتقال کر گئے | کھیل | DW | 07.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

بے مثال پاکستانی کرکٹر عبدالقادر انتقال کر گئے

سابق پاکستانی لیگ اسپنر عبدالقادر تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں کرکٹ کے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ وہ بولنگ کے اپنے انوکھے انداز کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے تھے۔

عبدالقادر کے بیٹے سلیمان قادر نے خبر رساں اداروں کو بتایا، ''میرے والد کو کبھی بھی دل کا کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوا تھا اور یہ سب کچھ بہت اچانک اور حیران کن تھا کہ انہیں شدید قسم کا دل کا دورہ پڑا اور وہ جاں بر نہ ہو سکے۔‘‘

عبدالقادر نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1977ء میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ اپنے کرکٹ کے کیریئر کے دوران انہوں نے 67 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 236 وکٹیں لیں۔ ان کی بہترین بولنگ بھی انگلینڈ ہی کے خلاف تھی جس میں انہوں نے 1987ء میں ایک ٹیسٹ میچ میں 65 رنز دے کر نو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں بولنگ کے شعبے میں یہ ریکارڈ  ابھی تک کوئی دوسرا بولر توڑ نہیں سکا۔

Abdul Qadir

عبدالقادر نے 104 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی 132 وکٹیں لیں۔ انہوں نے اپنے آخری میچ 1993ء میں کھیلے تھے۔ قادر کے بولنگ کرانے کا انداز جتنا انوکھا تھا اتنا ہی وہ تباہ کن بھی تھا۔ بلے بازوں کے خلاف ان کے بڑے ہتھیار ان کی گوگلی اور فلپر تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے نمبر کے کھلاڑی اور آسٹریلیا کے بولر شین وارن قادر کے بہت بڑے مداح تھے۔

1970ء اور 1980ء کی دہائی میں لیگ اسپن بولنگ کو ایک مرتبہ پھر سے زندہ کرنے کا سہرا بھی عبدالقادر کے سر ہی جاتا ہے۔ ان کے خاص انداز اور گوگلی بولنگ نے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو پریشان کیے رکھا تھا اور بہترین بلے باز بھی ان کی لیگ اسپن کے معترف تھے۔ ان کا شمار پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے پسندیدہ بولروں میں ہوتا تھا۔

عمران خان نے عبدالقادر کے انتقال پر کہا، '' مجھے قادر کے دنیا سے چلے جانے پر بہت دکھ ہے۔ اس انتقال سے ایک قریبی دوست اور  ٹیم کا کھلاڑی  مجھ سے بچھڑ گیا ہے، یہ تکلیف دہ ہے۔‘‘ پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا،'' قادر نے پاکستان کرکٹ کا نام روشن کیا اور ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ قادر ایک عظیم کھلاڑی تھے۔‘‘

اسی طرح وسیم اکرم، معین خان، راشد لطیف اور وقار یونس نے بھی عبدالقادر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وسیم اکرم کے مطابق، ''عبد القادر کی صورت میں ہم ایک ایسے عظیم اور بے مثال کرکٹر سے محروم ہو گئے ہیں، جو اپنی ذات میں خود ایک ادارہ تھے۔‘‘

عبدالقادر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر بھی رہے تھے اور وہ لاہور میں اپنی ایک نجی کرکٹ اکیڈمی بھی چلا رہے تھے۔ ان کے چاروں بیٹے رحمان، عمران، سلیمان اور عثمان فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے ہیں جبکہ ان کی بیٹی نور پاکستانی کھلاڑی عمر اکمل کی اہلیہ ہیں۔ عبدالقادر اگر زندہ رہتے تو وہ پندرہ ستمبر کو اپنی چونسٹھویں سالگرہ  مناتے۔

ع ا / م م 

DW.COM