بی جے پی کے خلاف سینکڑوں بھارتی فنکاروں کی اپیلیں | معاشرہ | DW | 15.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بی جے پی کے خلاف سینکڑوں بھارتی فنکاروں کی اپیلیں

بھارت کے صف اول کے کئی اداکاروں، لکھاریوں، ڈرامہ نویسوں، شاعروں، ادیبوں اور تاریخ دانوں نے ووٹروں سے انتہا پسندی کا پرچار کرنے والے سیاست دانوں، جماعتوں، تنظیموں اور نظریوں کو مسترد کرنے کی اپیلیں جاری کی ہیں۔

بیک وقت کئی زبانوں میں جاری کی جانے والی ان اپیلوں کے ذریعے نصیر الدین شاہ جیسے معروف اداکار اور رومیلا تھاپر جیسی لیجنڈ تاریخ نویس اور اروندتی رائے جیسی عالمی شہرت یافتہ ادیبہ کے ساتھ ساتھ 700 سے زائد تھیٹر اداکاروں، 200 سے زائد ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں اور 100 سے زائد فلم فنکاروں نے کہا ہے کہ مذہبی رواداری اور مساوی شہری حقوق کی ضمانت دینے والی سیکولر ریاست اور جمہوری حکومت ہی بھارت کے محفوظ اور روشن مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔

قومی تاریخ کا فیصلہ کن دوراہا

آرٹسٹ یونائیٹ انڈیا نامی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اپیل میں بھارتی جمہوریت کو لاحق سنگین خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے،’’آج ہم اپنی قومی تاریخ کے نازک ترین مقام پر کھڑے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران  آزادی رائے پر انگنت حملے کیے گئے ہیں اور ملک پر ملوکیت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ منافرت ذدہ ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ افراد کو قتل کرنے کے واقعات ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کا ایجنڈہ یہ ہے کہ ایک پر تشدد ثقافتی یکسانیت قائم کر کے بھارت کے شاندار اور متنوع سماجی تانے بانے کو بکھیر دیا جائے۔‘‘

مزید یہ،’’نصاب تعلیم میں خطرناک تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اعلی تعلیمی وتحقیقی اداروں کے مرکزی عہدوں پر آر ایس ایس کے نظریات سے وابستہ افراد کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہندوتوا بریگیڈ کے لوگوں کو آرٹ اور کلچر کے اداروں کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ آج بھارت میں مذہبی تقسیم عروج پر ہے، ذات برادری کی بنیاد پر ہونے والا تشدد روزمرہ کا معمول ہے۔ لو جہاد، گاؤ ہتیہ، ٹکڑے ٹکڑے گینگ اور اربن نکسل جیسی اصطلاحات پھیلائی گئی ہیں تاکہ دلتوں، مسلمانوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں، فنکاروں، لکھاریوں اور کمزور طبقات کے خلاف تشدد کو ابھارا جائے۔ دوسری طرف منافرت پرست مجرموں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘

سیکولر آئینی جمہوریت یا ہندوتواِ؟

نصیر الدین شاہ، رتنا پاتھک شاہ، انوراگ کیشپ، کونکنہ سین شرما، للت دوبے اور مانو کول جیسے 700 سے زائد تھیٹر ایکٹروں کی جاری کردہ اپیل میں کہا گیا ہے،’’بھارت کے تھیٹر فنکاروں نے اپنی ڈیڑھ سو سالہ شاندار تاریخ میں ہمیشہ مذہبی منافرت، انتہا پسندی اور تنگ نظری کی مزاحمت کی ہے۔ ہم نے موسیقی، رقص، مزاح اور المیہ کے ذریعے ایک سیکولر، جمہوری اور منصفانہ معاشرے کے تصور کو فروغ دیا ہے، جو آج خطرے میں ہے۔ آج رقص و نغمہ اور قہقہہ خطرے میں ہے۔ آج ہمارا آئین خطرے میں ہے۔ ان اداروں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے جنہوں نے آزاد مکالمہ، اختلاف رائے اور دلیل و منطق کی آبیاری کرنا تھی۔ سوال کرنے، سچ بولنے اور جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کو غداری قرار دے دیا گیا ہے۔ ہم اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے بجائے سیکولر، جمہوری اور روادار معاشرے کے قیام کے لیے ووٹ دیں۔‘‘

اسی طرح، ارون دتی را ئے، امیتابھ گھوش، الوک رائے، رومیلا تھاپر اور اسد زیدی جیسے صف اول کے 200 ادیبوں، دانشوروں اور تاریخ دانوں نے اپیل کی ہے،’’ہم نہیں چاہتے کہ فنکاروں، ادیبوں اور دلیل پسندوں کو ہراساں کیا جائے یا قتل کیا جائے۔ اس کے خلاف سب سے پہلی اور بنیادی مزاحمت یہ ہے کہ نفرت کی سیاست کو شکست دینے کے لیے تنوع اور مساوات کی قوتوں کو ووٹ دیں۔‘‘

سیکولر جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں

دہلی سے تعلق رکھنے والی لکھاری اور امن پرست، اروشی بٹالیہ نے بھی اس اپیل پر دستخط کیے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے ایک سیکولر ہندوستان دیکھا ہے جہاں سب کے لیے احترام اور جگہ تھی، سب کو معلوم تھا کہ قانون کے دائرے میں، امن سے کس طرح رہنا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس طرح انتہا پسندی اور بدامنی پھیلی ہے تو ہمارے سامنے سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک کا کیا بنے گا۔ اصل مسئلہ غربت ہے لیکن غریب آدمی کو جنونی بنایا جا رہا ہے۔ ہم جمہوری انتخابات کے حق میں ہیں، کوئی بھی جیتے لیکن مذہبی انتہا پسندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مذہبی جنونیت کے خلاف سب کو آواز اٹھانی پڑے گی۔ اور ہم نے اسی لیے یہ اپیل جاری کی ہے۔‘‘

بھارت کے شہر چنائی سے تھیٹر کی معروف آرٹسٹ اور ڈائریکٹر، پرسنا راماسوامی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’یہ بہت نازک وقت ہے۔ آج لوگوں کو سامنے آ کر واضح انداز میں آواز اٹھانا ہو گی۔ مذہبی بنیاد پرستی بھارتی معاشرے کے تاروپود بکھیر کر رکھ دے گی۔ اور اختلاف رائے کے حق پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے شہریوں کے خیالات اور عقائد کا فیصلہ کرے۔ ہندوستانی عوام نے کبھی اپنے حق حکمرانی اور جمہوری آزادیوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور یہ اپیل بھی انہی جمہوری قدروں اور آزادیوں کے لیے اٹھائی گئی ایک آواز ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، پاکستان کے معروف اجوکا تھیٹر کے شاہد محمود ندیم کا کہنا تھا، ’’جنوبی ایشیا کے فنکاروں نے ہمیشہ امن کے حق میں اور منافرت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ ایک شاندار روایت ہے۔ بھارت بہت بڑا ملک ہے اور وہاں کے امن پسند اور جمہوریت پسند حلقے بھی بہت طاقتور ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس عبوری بحران سے نکل آئیں گے۔‘‘

پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ تھیٹر آرٹسٹ، رقاصہ اور انسانی حقوق کی کارکن، شیما کرمانی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ہندوستان میں سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی فنکاروں اور امن پسندوں کو صورت حال کی سنگینی کا احساس ہے کیونکہ ہم نے اپنے ملک میں یہی  جنگ لڑی ہے۔ فاشزم کوئی بھی ہو، وہ سب سے پہلے معاشرے کے تخلیقی اظہار اور خواتین کے حقوق پر حملہ کرتا ہے کیونکہ انہی دو قوتوں سے اسے خطرہ ہوتا ہے۔ بھارت کے فنکار اور دانشور بھی مذہبی فاشزم کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور آخری فتح انہی کی ہو گی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:51

بھارتی نوجوان کس کو ووٹ دیں گے ؟

                              

   

 

DW.COM

Audios and videos on the topic