بیٹا ہے یا بیٹی؟ شوہر نے درانتی سے حاملہ بیوی کا پیٹ کاٹ دیا | معاشرہ | DW | 22.09.2020

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بیٹا ہے یا بیٹی؟ شوہر نے درانتی سے حاملہ بیوی کا پیٹ کاٹ دیا

بھارت میں بیٹے کے خواہش مند ایک متجسس شوہر نے اپنی نامولود اولاد کی جنس پتا کرنے کے لیے درانتی سے بیوی کا پیٹ کاٹ دیا۔ ہسپتال میں بیوی کی حالت نازک ہے، شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ نامولود بچہ بیٹا تھا جو مر گیا۔

یہ ہلا کر رکھ دینے والا واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہفتے کے روز پیش آیا۔ اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پولیس نے منگل بائیس ستمبر کے روز بتایا کہ جو شخص اس جرم کا مرتکب ہوا، اس کی پہلے ہی سے پانچ بیٹیاں تھیں اور اس کی بیوی چھٹے بچے کے ساتھ حاملہ تھی۔

شوہر کی شدید خواہش تھی کہ اس مرتبہ بیٹی کے بجائے بیٹا پیدا ہو، لیکن اس جوڑے کو یہ خبر نہیں تھی کہ ماں کے پیٹ میں بچہ پھر ایک بیٹی تھی یا پہلا بیٹا۔ اس شخص کو اپنے نامولود بچے کی جنس جاننے کا اتنا زیادہ خبط تھا کہ اس نے ایک درانتی سے اپنی حاملہ بیوی کا پیٹ ہی کاٹ دیا۔

ہسپتال میں عورت کی حالت نازک

اس مجرمانہ جسمانی حملے میں اس شخص کی بیوی اتنی زیادہ زخمی ہو گئی کہ اسے ملکی دارالحکومت نئی دہلی کے ایک ہسپتال پہنچانا پڑ گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس خاتون کی حالت نازک ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہے۔ خاتون کے شوہر کو پولیس گرفتار کر چکی ہے۔

لیکن اس ناقابل تصور جرم کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ اب شاید یہ شخص خود کو اور اس کی بیوی بھی اسے کبھی معاف نہ کر سکے: ملزم کی اس کی بیوی کی پیٹ میں اولاد پہلی مرتبہ ایک بیٹا تھا لیکن درانتی سے پیٹ کاٹے جانے کے دوران یہ بیٹا اپنی پیدائش سے پہلے ہی شکم مادر میں اپنے ہی باپ کے ہاتھوں مارا گیا۔

بیٹا ہسپتال میں مردہ پیدا ہوا

زخمی خاتون کے بھائی نے بتایا، ''میری بہن کا شوہر اتنا مشتعل تھا کہ اس نے اپنے نامولود بچے کی جنس کا پتا کرنے کے لیے درانتی سے میری بہن اور اپنی حاملہ بیوی کا پیٹ ہی کاٹ دیا۔‘‘

پولیس نے بھی تصدیق کر دی کہ یہ بچہ، جو اس جرم کے ارتکاب سے پہلے تک ماں کے پیٹ میں زندہ تھا، اس حملے میں مارا گیا، ''ہسپتال میں ڈاکٹروں نے جب اسے اس کی ماں کے پیٹ سے نکالا، تو وہ مرا ہوا تھا۔‘‘

'بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والا معاشرہ‘

اس ہولناک جرم کے بارے میں ٹامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ بھارت میں زیادہ تر غربت اور شادی کے وقت جہیز کے لیے ناکافی مالی وسائل کی وجہ سے بیٹیوں کو 'بوجھ‘ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے پیدایش سے قبل اگر علم ہو جائے کہ نامولود بچہ کوئی لڑکی ہے، تو اکثر خاندانوں میں ایسے حمل ضائع بھی کرا دیے جاتے ہیں۔

اسی لیے بھارت میں اگر کوئی نامولود اولاد لڑکی ہو، تو ایسے حالات میں اسقاط حمل کروانا قانوناﹰ جرم ہے۔ اس جنوبی ایشیائی ملک میں ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں پر بھی پابندی ہے کہ وہ کسی بھی نامولود بچے کے والدین کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے ہاں آئندہ پیدا ہونے والا بچہ کوئی بیٹا ہو گا یا بیٹی۔

م م / ا ا (ٹامس روئٹرز فاؤنڈیشن)

DW.COM