بیوی کے حمل کا شوہر کے پیٹ پر نفسیاتی اثر ’عین ممکن‘ | صحت | DW | 29.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بیوی کے حمل کا شوہر کے پیٹ پر نفسیاتی اثر ’عین ممکن‘

عموماﹰ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی خاتون حاملہ ہو تو اس کا نفسیاتی اثر خاوند کے پیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ایک جرمن محقق کے مطابق ایسا عین ممکن ہے اور کوئی عجیب بات نہیں کہ بیوی کے حاملہ ہونے پر کسی مرد کی اپنی توند بھی نکل آئے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے منگل انتیس دسمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق جب کوئی خاتون ماں بننے والی ہو تو حمل کے آخری مہینوں کے دوران اس کے بڑھے ہوئے پیٹ کے لیے ڈاکٹر عام طور پر baby bump کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ لیکن معروف جرمن ماہر امراض بچگان ڈاکٹر زِیڈن ٹوپف کے مطابق انہی مہینوں میں یہ بھی عین ممکن ہے کہ بیوی سے محبت اور آنے والے نئے انسان کی آمد کی خوشی میں ایسی کسی خاتون کے شریک حیات کا پیٹ بھی ایسے بڑھنے لگے کہ اسے بھی کسی حد تک ’بےبی بمپ‘ کہا جا سکے۔

ڈاکٹر ژان پیٹر زِیڈن ٹوپف برلن کے معروف ’شارِیٹے‘ ہسپتال کے بچوں کے امراض کے شعبے کے ایک سینیئر فزیشن ہیں۔ انہوں نے ڈی پی اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’حاملہ خواتین کے کئی شوہروں میں پیٹ کے بڑھنے کا ایسا عمل بھی دیکھا گیا ہے، جو ’جسمانی وزن میں اضافے کی معمول کی بات سے آگے‘ کا عمل قرار دیا جاتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر زِیڈن ٹوپف کے مطابق طبی ماہرین اس تبدیلی کو ’کُوواڈ سنڈروم‘ بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر اس حالت کا نام فرانسیسی زبان کے ایک لفظ سے مستعار لیا گیا ہے، جسے عرف عام میں sympathetic pregnancy یا ’ہمدردانہ حمل‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ حالت نفسیاتی اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے اور طبی طور پر یہ کوئی ’مسلمہ سنڈروم یا بیماری‘ نہیں ہے۔

ڈاکٹر زِیڈن ٹوپف نے پولینڈ میں ایک ایسے طبی مطالعے کے نتائج کا حوالہ بھی دیا، جس میں 143 ایسے مردوں کی جسمانی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جو باپ بننے والے تھے۔ اس مطالعے کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ جب کوئی خاتون حاملہ ہو، تو اس کے شوہر میں بھی ممکنہ طور پر ایسی علامات دیکھنے میں آ سکتی ہیں، جو بالعموم حاملہ خواتین میں نظر آتی ہیں۔ ایسی علامات کے طور پر ’جسمانی وزن میں اضافے، بھوک لگنے کے عمل میں تبدیلی اور پیٹ میں درد کے احساس‘ جیسی شکایات کا ذکر کیا گیا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ پولینڈ میں لیے گئے اس طبی جائزے کے نتائج کے مطابق حاملہ بیویوں کے خاوند 143 ایسے مردوں میں سے 72 فیصد کی حالت یہ تھی کہ ان میں حاملہ ہونے کی طرح کی کم از کم ایک علامت ضرور پائی گئی۔ ڈاکٹر زِیڈن ٹوپف کے مطابق اس حالت کو صرف اسی پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایسے مردوں کی بیویاں بھی اپنے حمل کے دوران ایسی جسمانی حالتوں سے گزری تھیں یا گزر رہی تھیں۔

اس طبی جائزے کے نتائج کے مطابق بہت حساس اور اپنی شریک حیات سے اس کی جسمانی حالت کے باعث ہمدردی رکھنے والے مردوں میں تو اس وجہ سے ہارمونز کی جزوی تبدیلی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈاکٹر ژان پیٹر زِیڈن ٹوپف نے کہا کہ مردوں میں یہ ممکنہ تبدیلی اس احساس کا نتیجہ بھی ہوتی ہے کہ باپ بننے کے بعد ان کی زندگی میں نئی اور بڑی خاندانی اور سماجی تبدیلیاں آئیں گی۔

DW.COM